ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 527 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 527

527 لیک کینا ئینم اور سردی سے آرام پاتا ہے۔لیڈم اور پلسٹیلا میں بھی خصوصیت سے یہ علامت پائی جاتی ہے۔پلسٹیلا کا عمومی مزاج گرم ہے لیکن لیڈم کا مزاج گرم نہیں ہے البتہ وجع المفاصل کو ٹھنڈی ٹکور سے آرام آتا ہے یہاں تک کہ بعض مریض پانی میں برف کی ٹکڑیاں ڈال کر اس میں اپنے پاؤں رکھتے ہیں۔لیڈم میں جوڑوں کی دردیں اکثر نیچے سے شروع ہو کر اوپر کی طرف حرکت کرتی ہیں۔لیک کینا ئینم میں روشنی اور شور سے زود سی پائی جاتی ہے۔پڑھتے ہوئے آنکھوں کے سامنے ہلکی سی دھند آ جاتی ہے۔آواز میں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔قریب کی آواز میں بھی دور ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔یہ علامت کسی اور دو امیں نہیں پائی جاتی۔لیک کینائینم ڈفتھیر یا یعنی خناق کی بہترین دواؤں میں سے ایک ہے۔خصوصاً اگر گلے میں دردیں ایک طرف کے ٹانسلز سے دوسری طرف اور پھر دوسرے ٹانسلز سے پہلے ٹانسلز کی طرف بار بار کودتی رہیں۔کسی زمانے میں خناق بہت عام بیماری تھی اور اس کا علاج بہت مشکل تھا لیکن اب اس کا مدافعتی ٹیکہ ایجاد ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اس بیماری پر قابو پالیا گیا ہے۔لیکن تیسری دنیا کے غریب ممالک میں ابھی بھی یہ بیماری موجود ہے۔یہ بہت خطرناک بیماری ہے اس میں بیماری کا زہریلا مادہ سرمئی رنگ کے مواد کی صورت میں گلے میں جم جاتا ہے اور تہہ بہ تہہ موٹا ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ سانس کی نالی کو بند کر دیتا ہے۔سانس لینے میں سخت دقت ہوتی ہے اور کھانا پینا تو تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔خناق کی بہترین ہومیو پیتھک دوا اسی بیماری کے مادے سے تیار کی گئی ہے جس کا نام دفتھیر بینم (Diphtherinum) ہے۔دوسو طاقت سے شروع ہوکر آہستہ آہستہ طاقت بڑھانی چاہئے۔اس کی تفصیل کے لئے ڈفتھیرینم کے باب کا مطالعہ کریں۔اگر خناق کی علامت یہ ہو کہ ایک طرف سے تکلیف اچھل کر دوسری طرف جائے اور پھر واپس آ جائے تو ایسی صورت میں لیک کینا ئینم چوٹی کی دوا ہے۔بسا اوقات خناق کے زہر سے گلے میں مستقل فالج کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے یعنی خناق ٹھیک بھی ہو جائے لیکن فالج رہ جائے تو لیک کینا ئینم بہت فائدہ مند ہے۔اگر نزلہ، زکام کے بعد یا خناق کے امراض کے ٹھیک