ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 428
بیکلا لاوا 428 بیماری سے شدید تکلیف میں تھی۔ایک طرف کا چہرہ سخت سوجا ہوا تھا ، آنکھوں میں دباؤ تھا اور در داتنا شدید ہوتا تھا کہ چیچنیں نکل جاتیں تھیں۔دیر تک ایک بہترین ہسپتال میں داخل رہیں مگر ڈاکٹروں کی کچھ پیش نہ گئی اور آخر انہیں لاعلاج قرار دے کر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔میں نے انہیں سلفر CM کی ایک خوراک دی جس سے ان کا درد کم ہو گیا۔دو ہفتے کے اندر ہی سوزش میں نمایاں طور پر کمی آ گئی۔پھر میں نے انہیں سلیشیا CM کی ایک خوراک دی جس سے شفایابی کی رفتار جو رک گئی تھی بحال ہو گئی۔اس کے کچھ عرصہ بعد سلفر CM دوبارہ دی تو بیماری کا نام ونشان تک باقی نہ رہا۔اس بات کو کئی سال گزر چکے ہیں اور آج تک وہ بالکل ٹھیک ٹھاک اور صحت مند ہیں۔ہیکلا لاوا کے تعلق میں میں یہ اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ بظاہر علامتیں ہیکلا لاوا کی تھیں اور با وجود کچھ عرصہ مسلسل ہیکل ا لاوا کھلانے کے انہیں قطعاً کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہڈیوں کی دوسری بیماریوں میں ہیکل الا وا مفید ہو تو ہولیکن کینسر میں مفید نہیں ہے۔ہیکلا لا وا یقیناً مفید دوا ہو گی لیکن ذاتی طور پر مجھے اس کی افادیت کا کوئی تجربہ نہیں۔تاہم بعض ہو میو پیتھ اس کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ہی کلا لاوا کی خاص علامت یہ بتائی جاتی ہے کہ جبڑوں کی ہڈی میں درد ہوتا ہے۔جبڑوں کے اردگر دسوزش نمایاں ہوتی ہے اور جبڑے کی ہڈی بڑھ جاتی ہے۔ہڈیوں کی گہری بیماریوں میں میں نے سلفر کے علاوہ کلکیریا کارب کو بھی ہیکل الاوا ے بہت زیادہ مفید پایا ہے۔میں نے اسے ہڈیوں کے کینسر کے ایسے مریضوں کو جن کا کینسر کلینیکل لیبارٹریز کے تجزیہ سے قطعی طور پر ثابت ہو چکا تھا۔اونچی طاقت میں دے کر دیکھا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے چند مہینے کے علاج کے بعد بیماری بہت حد تک قابو میں آ گئی۔ایسے مریضوں کا لمبا عرصہ احتیاط سے علاج کرنا پڑتا ہے اور صرف کلکیریا کارب پر ہی اکتفا نہیں کی جاتی بلکہ اگر مریض کی علامتوں پر گہری نظر رکھی جائے تو بعض دفعہ مرض کی علامتیں بعض دوسری امدادی دواؤں کی نشاندہی کرتی ہیں۔پس مرکزی دوا تو کلکیریا کارب ہی رہے گی لیکن اور بہت سی دوائیں کلکیریا کارب کی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔کلکیریا کارب خاص طور پر کیلشیم کی کمی سے پیدا ہونے والی ہڈی کی تکلیفوں میں مفید