ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 429 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 429

بیکلا لاوا 429 ہے۔سلفر کا بھی اس سے تعلق ہے اور یہ سلفر کی مزمن دوا ہے۔ٹانگوں کے نچلے حصہ کی ہڈیوں میں سلفر کی بجائے عموماً کلکیریا کارب زیادہ کام کرتی ہے۔ہاتھوں کے ٹیومر پر بھی یہ اثر انداز ہوتی ہے۔میں ہیکلا لاوا سے زیادہ استفادہ نہیں کر سکا۔ہوسکتا ہے کہ مجھے اس کی علامتوں پر پورا عبور نہ ہو۔اس لئے میں باقی ہو میو پیتھس کو ہیکلا لاوا سے کلیتا بد دل نہیں کرنا چاہتا۔وہ ہیکلا لا وا پر مختلف ڈاکٹروں کی تحریریں پڑھ کر اگر اس کے مزاج کو اچھی طرح سمجھ لیں اور پھر مختلف طاقتوں میں اس کا مریضوں پر تجربہ کریں تو ہوسکتا ہے کہ میری ناکامی کے باوجود وہ کامیاب ہو جائیں۔جن دنوں بچوں کے دودھ کے دانت نکل رہے ہوتے ہیں اس وقت دانتوں کے نکلنے میں آسانی پیدا کرنے کے لئے بعض ڈاکٹر ہی کلا لاوا کو بہت مفید بتاتے ہیں۔اس کا بھی مجھے کوئی ذاتی تجربہ نہیں لیکن اس کی بجائے میں بائیو کیمک کا جو مرکب نسخہ استعمال کرتا ہوں وہ بلاشبہ غیر معمولی طور پر فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ ہے۔کالی فاس+ فیرم فاس+سلیشیا+ کلکیر یا فاس+ کلکیر یا فلور۔مزید براں یہ نسخہ ہڈیوں کے کینسر کی بعض قسموں میں اور ہڈی کی بیرونی جھلیوں کی تکالیف میں بھی اچھا اثر دکھاتا ہے۔جہاں تک ہو میو پیتھک کتب کا تعلق ہے وہ ہیکلا لا واکو کان کے پیچھے ہڈی میں گانٹھوں، ہڈی کے غلاف کی سوزش ، ناک کی ہڈی کے زخم ، چہرے کے اعصابی درد جو دانت نکلوانے کے بعد یا دانت میں کیڑا لگنے کی وجہ سے پیدا ہوں اور گردن کے غدود بڑھ کر سکڑ جائیں تو ان سب میں مفید بتاتی ہیں۔مرطوب موسم میں اس کی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔دافع اثر دوائیں : کیمفر۔چائنا طاقت 30 اور اس سے اونچی طاقتیں