ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 427
بیکلا لاوا 427 106 ہیکل الاوا HEKLA LAVA Mount Hecla ایک پہاڑ ہے۔اس پہاڑ سے نکلنے والے لاوے سے ایک دوا بنائی گئی ہے جو ہیکل الاوا کہلاتی ہے۔میرے خیال میں صرف یہی ایک لاوا ہے جس سے دوا بنائی گئی ہے۔کسی اور لاوے کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ اس سے کوئی ہو میو پیتھی دوا بنائی گئی ہو۔ان سب لاووں کا مادہ تو قریباً ایک جیسا ہی ہو گا لیکن ہر زمین میں موجود مادہ کا اثر ایک دوسرے سے کسی حد تک مختلف بھی ہو سکتا ہے اس لئے دوسرے پہاڑوں کے لاوے پر بھی تجربہ کرنا چاہئے۔ہیں کل لاوا کا اثر خاص طور پر ہڈیوں پر ہوتا ہے، خصوصا چہرے اور جبڑے کی ہڈیوں پر۔بعض دفعہ دانت خراب اور بوسیدہ ہونے کی وجہ سے بہت تکلیف دیتے ہیں اور کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوتے تو ہیکلا لاوا کام آتا ہے۔ہیکلا لاوا کی زیادہ تر شہرت تو چہرے اور جبڑے کی ہڈیوں میں مفید ہونے کی وجہ سے ہے مگر یہ تمام جسم کی ہڈیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔بعض دفعہ جبڑا سوج کر بہت موٹا ہو جاتا ہے۔سب علامتیں عموماً ہیکلا لاوا سے ملتی ہیں لیکن اس کے باوجود اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔اس سلسلہ میں سب سے اہم اور مؤثر دوا سلفر ہے جو ایسی خطرناک علامتوں میں بھی کام کرتی ہے جن کے بارے عام معالجین کا یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ نا قابل علاج ہو چکی ہیں۔مثلاً جبڑے کی ہڈی کا کینسر ہے جو بہت بڑھ چکا ہو۔اس کے نتیجہ میں شدید تکلیف ہوتی ہے، اس سے کان بھی متاثر ہوتا ہے۔میں نے بارہا ایسے مریضوں کا سلفر کے ذریعہ کامیاب علاج کیا ہے۔ایک مریضہ اس