ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 750
سليشيا 750 (Anti-Biotic) دواؤں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔سلیشیا جراثیم اور کیڑوں کے خلاف ردعمل دکھا کر ان کو جسم کے اندر ہی مار کر ان کی پیپ بنادیتی ہے یا انہیں بغیر پیپ بنائے مختلف مخارج سے باہر نکال پھینکتی ہے۔بعض بیماریوں میں جراثیم کے خلاف سلیشیا کا رد عمل کافی نہیں ہوتا یا بالکل ہی نہیں ہوتا مثلاً ٹائیفائیڈ کے مریض پر سلیشیا رتی برابر بھی اثر نہیں کرتی۔اسی طرح فساد خون کی بعض قسموں میں سلفر اور پائیر و جینم سلیشیا کی نسبت زیادہ مؤثر ہیں۔ہمیں لمبے تجربہ سے معلوم ہو چکا ہے کہ کن بیماریوں میں سلیشیا کام آ سکتی ہے اور کن بیماریوں میں کسی اور دوا کی ضرورت ہے۔ایسی گہری بیماریاں جن میں جسم کے پیچیدہ نظام کے مخصوص رد عمل کی ضرورت ہے ان کے لئے لمبی محنت ، غور وفکر اور ہر مرض اور مریض کی نوعیت کو سمجھ کر دوا کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے جسم میں ایک ایسا نظام جاری کیا ہوا ہے جو لاکھوں بیماریوں کے خلاف الگ الگ دفاعی کارروائی کے لئے ترکیب اور ترتیب دیا گیا ہے۔یہ ایک ایسی عظیم فیکٹری ہے جس کی گہرائی ، وسعت اور ہمہ گیر تخلیقی طاقتوں کا تصور بھی عام انسان تو کیا ماہر سائنسدان بھی پوری طرح نہیں کر سکتے۔پس سلیشیا گو بہت ہمہ گیر ہے مگر اس وسیع وعریض نظام پر ہر گز حاوی نہیں۔سلیشیا عموماً متعدی بیماریوں ، پھوڑے پھنسیوں میں بہترین کام کرتی ہے۔اسی طرح بے جان چیزوں کے خلاف حیرت انگیز بلکہ ناقابل فہم رد عمل دکھاتی ہے مثلاً اگر جسم میں لوہے کا کیل داخل ہو جائے ، کوئی اور چیز غلطی سے نگل لی جائے ، گلے میں مچھلی کا کانٹا پھنس جائے یا بندوق کے چھرے جسم کے اندر رہ جائیں تو سلیشیا اس قسم کی چیزوں کو جسم سے باہر نکالنے میں عجیب کام دکھاتی ہے۔اس کے دو طرح کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔اگر چھوٹی طاقت میں دی جائے تو ماؤف جگہ پر آہستہ آہستہ خون کی فراہمی تیز کر کے تیزی سے جراثیم کو مار کر پیپ بنائے گی اور ان پھوڑے پھنسیوں کو جو عام طور پر ہفتہ دس دن میں پک کر پھٹنے کے لئے تیار ہوتے ہیں دو تین دنوں میں ہی پکا کر پھٹنے کے لئے تیار کر دے گی۔اس سے تکلیف بھی نسبتاً کم ہوتی ہے اور پیپ بھی بہت زیادہ نہیں بنتی۔