ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 751
751 سليشيا زخم کا سوراخ بھی معمولی سا ہوتا ہے جو دیکھنے میں بدنما معلوم نہیں ہوتا۔اسی طرح اگر سوئی جسم میں داخل ہو جائے یا کسی دھات یا کنکر کا ٹکڑا جسم کے اندر کہیں پھنسا ہو تو سلیشیا اسے باہر دھکیل دیتی ہے اور ایسے پر اسرار طریق پر باہر نکال دیتی ہے کہ یہ طریق ابھی تک انسانی سمجھ سے بالا ہے مگر مشاہدات قطعی ہیں۔ایک دفعہ ایک قابل سرجن نے مجھے بتایا کہ کسی مریض کی انتڑیوں میں سوئی پھنسی ہوئی تھی اور اپریشن خطر ناک تھا۔اسے انہوں نے سلیشیا کی شہرت سن کر سلیشیا دی۔کچھ عرصہ کے بعد اندرونی اعضاء کو زخمی کئے بغیر وہ سوئی خود ہی جسم سے باہر نکل گئی اور سوئی کے جسم سے باہر نکلنے کا رستہ سیدھا جلد کے قریب ترین تھا۔مختلف جھلیاں اور چربی کی تہیں وغیرہ بالکل حائل نہیں ہوئیں اور نہ ہی زخمی ہوئیں۔یہ طریق جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔انسانی فکر اور تصور کے احاطہ میں نہیں آسکتا مگر مشاہدہ اتنا قطعی اور بار بار ہونے والا ہے کہ کوئی معقول انسان اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ایک دفعہ ربوہ میں ایک بچے کے پاؤں میں شیشے کا ایک بڑا سا اور ٹیڑھا ٹکڑا پاؤں کی ہڈی تک پہنچ کر وہیں پھنس گیا۔پاؤں اتنا سوج گیا تھا کہ ڈاکٹروں نے اپریشن کرنے سے انکار کر دیا۔اسے مسلسل ایک مہینہ تک 6x میں سلیشیا کھلائی گئی۔سلیشیا کے اثر سے سوجن رفع ہوگئی اور شیشے کا وہ ٹکڑا بڑے آرام سے باہر نکلنے لگا یہاں تک کہ اس کا ایک کنارہ جلد سے اوپر نکل آیا۔تب اسے موچنے سے کھینچا گیا تو بغیر تکلیف کے باہر آ گیا۔افریقہ کے بعض ممالک اور پاکستان میں سندھ کے علاقہ میں گندے پانی کی وجہ سے ایک کیڑر اجسم میں داخل ہو جاتا ہے جو بہت خطرناک ہوتا ہے اور اندر ہی اندر فیتے کی طرح لمبا ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک سوت کی گٹھی کی طرح جسم میں ابھار بنا دیتا ہے جو بڑھتے بڑھتے ایک فٹ بال کے برابر بھی ہوسکتا ہے۔اسے فیل پا یعنی ہاتھی کا پاؤں جیسی بیماری کہا جاتا ہے۔وقف جدید کا ایک معلم ہومیوڈاکٹر نثار مورانی جو ہندوؤں سے مسلمانوں ہوا تھا، فیل پا کے علاج کے لئے سلیشیا کو کامیابی سے استعمال کرتا تھا۔اس کے بیان کے مطابق سلیشیا 6x کیڑے کو اندر ہی اندر پگھلا دیتی تھی۔اسے چیرا وغیرہ دے کر باہر نکالنے