ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 619 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 619

نیٹرم میور 619 میں پایا جاتا ہے جو دلدلی اور ساحلی ہو۔ایسے علاقوں میں طبعا ملیریا کی وجہ سے نیٹرم میور کی ضرورت پڑتی ہے لیکن باوجود اس کے کہ یہ ملیریا کی بہترین دواؤں میں سے ہے اسے ہرگز ملیریا کے چڑھتے بخار میں نہیں دینا چاہئے کیونکہ یہ نہایت خطرناک نتائج ظاہر کرتا ہے اور بہت سخت رد عمل دکھاتا ہے۔نیٹرم میور کو ملیریا میں استعمال کرنے کے مختلف طریقے بیان کئے گئے ہیں۔ان میں ایک یہ ہے کہ پہلے بخار کا دورہ کم ہونے کا انتظار کرنا چاہئے یا مزید انتظار کر کے دو بخاروں کے درمیانی وقعہ میں نیٹرم میور اونچی طاقت میں دیا جائے۔اگر یہ بخار پر اثر انداز ہو گا تو بخار کا وقت بدل جائے گا اور بخار جلدی یا دیر سے آئے گا۔اگر محض وقت تبدیل ہو اور بخار کا عرصہ کم نہ ہو اور شدت میں کمی نہ آئے تو ثابت ہوگا کہ نیٹرم میور نے صحیح کام نہیں کیا۔اس وقت فوری طور پر مزید انتظار کئے بغیر دوسری دوا تلاش کرنی چاہئے۔اگر صحیح دوائی شناخت کرلیں گے تو اس کے دینے کے بعد یا تو بخار یک دفعہ غائب ہو جائے گا اور پھر آئے گا ہی نہیں یا اگر بخار وقت سے پہلے آئے اور اس کی مدت بھی تھوڑی ہو تو عموماً اگلا بخار یا تو آتا ہی نہیں یا پہلے سے بہت کم ہوتا ہے۔اس صورت میں دوا کو بخار اترنے کے بعد پھر دہرانا چاہئے۔نیٹرم میور کی دماغی علامات عجیب ہیں۔شروع میں جب ذہنی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں تو مریض اپنے آپ کو مظلوم سمجھنے لگتا ہے اور ہر وقت اسی خیال میں کھو یار ہتا ہے لیکن اس کے باوجود کسی کی ہمدردی کو برداشت نہیں کرسکتا۔علاوہ ازیں نیٹرم میور کا مریض فرضی محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔بعض بوڑھی عمر کی عورتیں بھی ایسی فرضی محبت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔اگر محبت کا علاج دوا سے ممکن ہے تو ایسی عورتوں کا علاج نیٹرم میور سے ہوسکتا ہے۔اگر کوئی بخار لمبا عرصہ پیچھا نہ چھوڑے اور اس کا دماغ پر اثر پڑے تو نیٹرم میور کو آزمانا چاہئے لیکن خاص طور پر غم سے دماغ پر پڑنے والے اثرات میں نیٹرم میور بہترین ثابت ہوئی ہے۔غم کے ابتدائی مراحل میں فوری طور پر اثر کرنے والی دوائیں اگنیشیا (Ignatia) اور ایمبراگر لیا ہیں۔اگنیشیا اپنے اثرات کے لحاظ سے نسبتا سب سے تیز