ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 620 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 620

نیٹرم میور 620 مگر عارضی دوا ہے، بار بار دینی پڑتی ہے۔اگر گہر اغم زندگی کا حصہ بن چکا ہوتو وہ اگنیشیا کے دائرہ اثر سے نکل جاتا ہے۔ایمبر اگر لیسا (Ambra Grisea) ایسے مریض میں بہتر کام دکھاتی ہے۔اس کے بعد نیٹرم میور کی باری آتی ہے جس کے بارے میں میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ اس سے پورے پاگل مریض بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔نیٹرم میور کے مریض تشدد پسند نہیں ہوتے بلکہ خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں یا دنیا سے کھوئے جاتے ہیں اور جسمانی لحاظ سے کمزور ہونے لگتے ہیں۔انہیں غصہ بہت آتا ہے لیکن مار دھاڑ نہیں کرتے۔دماغ کمزور ہونے لگتا ہے۔مریض بات کرتے کرتے بھول جاتا ہے کہ میں کیا کہنے لگا تھا۔خیالات کا سلسلہ منتشر ہو جاتا ہے۔اگر کسی انسان کا بات کہتے کہتے اپنے خیالات سے تعلق ٹوٹ جائے تو یہ علامت نیٹرم میور کی بھی ہے۔لیکن اگر کوئی بات سنتے سنتے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے اور کچھ دیر سے سمجھے تو اس کے لئے پلمبم بہتر دوا ہے۔نیٹرم میور کی ایک علامت یہ ہے کہ پڑھنے سے تھکاوٹ ہونے لگتی ہے۔رونے کی طرف رجحان ہو جاتا ہے اور مریض پلسٹیلا کے مزمن مریض کی مانند ہو جاتا ہے۔پلسٹیلا کا مریض بھی بار بار رونے پر مائل ہوتا ہے مگر ذہنی لحاظ سے بالکل ٹھیک ہوتا ہے نیٹرم میور کے مریض کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں اور کمزور ہوتا ہے۔رونے کی کوئی بات ہو یا نہ ہو ویسے ہی رونے کی طرف میلان ہوتا ہے۔اگر نیٹرم میور سے غم کے بداثرات ٹھیک نہ ہوں اور مرض زیادہ گہرا معلوم ہو تو پھر سلیشیا نیٹرم میور کی مزمن دوا بنتی ہے۔سلیشیا پلسٹیلا کی بھی مزمن دوا ہے۔نیٹرم میور کو بلا وجہ بار بار استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کا زیادہ استعمال جسم میں خون کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔کبھی کبھی دینے میں کوئی حرج نہیں۔ایک ہی دن میں بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں۔نیٹرم میور کے مریض کو بہت پیاس لگتی ہے۔اس کے سر درد میں سر پر جگہ جگہ ہتھوڑے سے پڑتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔آنکھوں پر روشنی کا برا اثر پڑتا ہے۔حرکت سے تکلیف بڑھتی ہے۔اس لحاظ سے اس کی برائیونیا سے مشابہت ہے۔نیٹرم میور کی قبض برائیو نیا سے بھی سخت ہوتی ہے۔نیٹرم میورا میں (Apis) کا مزمن اور تریاق بھی ہے۔