ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 618 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 618

نیٹرم میور 618 کے باعث پسینہ آنا بند ہو جائے ان کو زیادہ نمک کھانے میں احتیاط کرنی چاہئے۔اگر خون میں ضرورت سے زائد نمک موجود ہے تو یہ پانی جذب کر کے خون کا حجم بڑھا دیتا ہے۔جس سے دباؤ کا بڑھناطبعی امر ہے۔نمک انسانی زندگی کا لازمی جزو ہے جس کا توازن بگڑنے سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جولوگ روزانہ ورزش کے عادی ہوتے ہیں اور انہیں کھل کر پسینہ آتا ہے اور پیشاب کے ذریعہ بھی نمک خارج ہوتا رہتا ہے انہیں زیادہ نمک کھانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔نیٹرم میور بہت گہری اور دیر پا اثرات کی حامل دوا ہے۔انسانی بدن کا کوئی بھی ایسا جزو نہیں جس پر یہ اثر انداز نہ ہو۔عام طور پر نیٹرم میور کی علامات رکھنے والے مریض کی جلد چمکدار ہوتی ہے۔نمک کی زیادتی کی وجہ سے خون میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے جلد پر چکنا پن آ جاتا ہے جیسے تیل مل دیا گیا ہو۔لیکن یا درکھیں کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر مریض اپنی تمام علامات کو ظاہر کرے یا اس کے ہر عضو میں دوا کی ہر علامت ظاہر ہو۔کسی دوا کے بالمثل ہونے کے لئے اس کی بنیادی اور امتیازی علامات مریض میں ملنی چاہئیں۔ہر تفصیلی علامت کا ہونا ضروری نہیں ہے۔نیٹرم میور کے مریض میں سخت تھکاوٹ اور نقاہت کے آثار پائے جاتے ہیں۔یہ نقاہت خواہ جسمانی ہو یا اعصابی، نیٹرم میور کے مریضوں میں دکھائی دے گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مریض میں ہائیڈروکلورک ایسڈ کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے جس سے مریض کو اچانک کمزوری کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔نیٹرم میور کا ملیریا سے گہرا تعلق ہے۔دلدلی علاقوں میں مچھر کی وجہ سے ملیریا پھیلتا ہے اور ملیریا سے خون میں بہت توڑ پھوڑ ہوتی ہے۔سرخ ذرات کم ہو جاتے ہیں اور خون میں پانی زیادہ ہونے لگتا ہے۔ان وجوہات کی وجہ سے نیٹرم میور کی ضرورت پڑتی ہے ورنہ نیٹرم میور کا نمدار دلدلی علاقوں سے کوئی خصوصی تعلق نہیں ہے۔ملیریا کا اصل تعلق مچھر سے ہے۔جہاں مچھر ہوں وہاں ملیر یا ضرور ہو گا۔اور عموماً مچھر ایسی آب و ہوا