ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 570 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 570

میکنیشیا 570 میں بھی ہے۔ایسی صورت میں اینٹی مونیم کروڈ اور میگنیشیا کا رب کے علاوہ چائنا بھی مفید ہے۔ایسے مریض جن میں سل کی علامات ظاہر ہونے لگیں۔چہرہ زرد ہو جائے۔اگر دیگر علامتیں کسی معین دوا کی طرف اشارہ نہ کریں تو میگنیشیا کا رب استعمال کریں۔میگنیشیا کا رب کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ فضلے کا رنگ مٹی کی طرح ہو جاتا ہے اور اس میں سخت بد بو ہوتی ہے۔یہ جگر کی خرابی کی علامت ہے۔بہت کھل کرا جابت ہوتی ہے جو ٹکڑوں کی صورت میں ہوتی ہے اور پانی پر تیرتی ہے۔معدے اور انتڑیوں کے کینسر میں بھی اجابت پانی پر تیرتی رہتی ہے اور ڈوبتی نہیں کیونکہ اس میں گیس ملی ہوئی ہوتی ہے مگر ضروری نہیں کہ جس شخص کی اجابت ملکی ہو کر تیرے اسے ضرور کینسر ہی ہوگا۔اس لئے خواہ مخواہ وہموں میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔کینسر کی دوسری علامتیں ہوں تو علاج کی فکر کرنی چاہئے۔میگنیشیا کا رب میں اجابت کا رنگ بعض دفعہ سبزی مائل ہو جاتا ہے۔اس کی سب بیماریوں میں خشکی بھی پائی جاتی ہے اور معدے میں کھٹاس ہوتی ہے۔کھانسی بھی خشک ہوتی ہے۔گلے میں خراش ہوتی ہے۔چہرے پر دق کے اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔بعض دفعہ کھانسی کے خشک ہونے کے باوجود معمولی سی بلغم بھی نکلتی ہے۔میگنیشیا کا رب میں کندھوں میں بھی درد ہوتا ہے۔خصوصاً دائیں کندھے میں۔سارے جسم میں تھکاوٹ کا احساس رہتا ہے۔جلد بے رنگ، زرد اور مرجھائی ہوئی۔سردی نا قابل برداشت ہوتی ہے۔بستر کی گرمی میں بھی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔اسی طرح بدلتے ہوئے موسم میں اور کھلی ہوا میں سکون محسوس ہوتا ہے۔مددگار دوا: کیمومیلا دافع اثر دوائیں: آرسنگ۔مرکزی طاقت 30