ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 396
396 کی دوا ہے جو خشک گرمی اور خشک سردی دونوں میں کام کرتی ہے۔جلسیمیم کو عموماً سر در داور نزلاتی بیماریوں میں استعمال کیا جاتا ہے مگر اسہال وغیرہ میں استعمال نہیں ہوتی حالانکہ اگر جسم ٹھنڈا ہو اور سر میں بوجھ محسوس ہو، منہ خشک ہونے کے باوجود پیاس نہ ہو تو وہ اسہال جو لمبا عرصہ پیچھا نہ چھوڑیں، ان میں جلسیمیم بہترین کام کرتی ہے۔اس لئے یہ اسہال کی بھی دوا ہے۔جلسیم میں بیماری کا اثر آہستہ ہونے کے باوجود اسے مزمن بیماریوں میں شاذ کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔نسبتا درمیانی عرصہ پر محدود بیماریوں میں استعمال ہوتی ہے۔جلسیمیم میں چہرے اور سر کی طرف خون کا دباؤ ہوتا ہے۔چہرہ گرم اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں یہ علامت آرنیکا میں بھی پائی جاتی ہے۔بعض دفعہ پنڈلیاں بھی ٹھنڈی اور یخ بستہ ہو جاتی ہیں۔یہ علامتیں گلو نائن سے بھی ملتی ہیں مگر جسیمیم اور گلونائن میں فرق یہ ہے کہ جلسیمیم میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں لیکن پسینہ بالکل نہیں آتا جبکہ گلونائن میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں اور پسینہ بھی آتا ہے۔کمر کے عضلات میں کھچاؤ اور تناؤ کی وجہ سے کمر درد کندھوں تک پھیل جاتا ہے اور سر کے پیچھے تک بھی محسوس ہوتا ہے۔گردن اکڑ جاتی ہے۔جس کی وجہ سے گردن موڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔سر درد عموماً ایک طرف نمایاں ہوتا ہے۔سوتے ہوئے گردن میں بل پڑ جائے تو جلسیمیم کے ساتھ بیلاڈونا ملا کر دینے سے فائدہ ہوتا ہے۔اگر کمر کی تکلیف کے ساتھ گردن بھی متاثر ہو اور گردن توڑ بخار کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں تو اس صورت میں کمر ٹھنڈی نہیں ہوتی، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں شیخ اور اکڑاؤ ہوتا ہے جس میں نیلا ہٹ نہیں ہوتی۔ان علامات میں جلسیمیم کو نہیں بھولنا چاہئے۔جلسیمیم میں سونے سے پہلے بے چینی سی ہوتی ہے اور مریض کو یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ اسے ٹھیک سے نیند نہیں آئے گی ، سر کچھ تکلیف محسوس کرتا ہے حالانکہ ابھی درد واضح نہیں ہوا ہوتا مگر سونے کے بعد وہ درد بڑھ جاتا ہے اور لیکیسس سے بظاہر مشابہت ہو جاتی ہے لیکن یہ جلسیمیم ہی کا مریض ہوتا ہے۔نیند آرام سے نہیں آتی۔انسان جب