ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 397
397 صبح اٹھتا ہے تو درد بڑھا ہوا ہوتا ہے۔یہ علامت گلونائن میں بھی ہے۔فرق یہ ہے کہ جلسیمیم کا در دصرف سر تک محدود نہیں رہتا بلکہ کندھوں کے اعصاب میں نیچے کندھے کی ہڈی تک اتر آتا ہے اور زیادہ تر یہ درد بائیں طرف اٹھتا ہے۔گلونائن کا تریاق (Antidote) جلسیمیم ہے۔اگر جلسیمیم اور نیٹرم میور ملا کر دیں تو یہ بطور تریاق بہت جلد کام کرتا ہے۔جلسیم عورتوں کے لئے بھی بہت کام کی دوا ہے۔رحم کے منہ کی اینٹن میں بہت مفید ہے۔وضع حمل کے وقت دردزہ کے کوندے نیچے سے اوپر کمر تک جاتے ہوں تو ایسے موقع پر بہت تیزی سے کام کرتی ہے اور اس کے استعمال سے کمر کے عضلات کا کھچاؤ ختم ہو جاتا ہے اور بچہ آسانی سے پیدا ہو جاتا ہے۔حیض کے دنوں میں بھی کمر اور کولہوں میں درد ہو جاتا ہے۔سردی بھی بہت لگتی ہے۔انفیکشن کی وجہ سے مسلسل بخار رہتا ہے جو ٹوٹتا نہیں۔اگر ملیریا کا بخار ہو اور روز چڑھتا اترتا ہواور عموماًدو پہر کے بعد اونچا ہونے کا رجحان ہو تو ایسی علامات میں جلسیمیم بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔جلسیمیم کی تکلیفیں شام کے وقت بڑھتی ہیں اور آرسنگ کی تکلیفیں دن اور رات بارہ بجے کے بعد نمایاں طور پر بڑھتی ہیں۔تین بجے کے قریب کالی کا رب کی تکلیفوں کا وقت شروع ہوتا ہے۔چار پانچ بجے سے چھ سات بجے تک جلسیمیم کی تکلیفوں میں شدت پیدا ہوتی ہے۔جلسیم میں دل کی دھڑکن آہستہ اور کمزور ہوتی ہے۔اس میں ایک یہ علامت ہے کہ مریض ہلکی رفتار سے چلتا رہے تو سمجھتا ہے کہ دل دھڑکتار ہے گا جب ٹھہر جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ دل کی دھڑکن بند ہو جائے گی۔گویا جسم کی حرکت دل کو طاقت دے رہی ہے اور اسے متحرک رکھ رہی ہے۔دل میں ایک خلا کا احساس ہوتا ہے اور کمزوری بھی۔لگتا ہے کہ حرکت سے دل ٹھیک ہو جائے گاور نہ بیٹھے بیٹھے دل بیٹھ ہی جائے گا۔ہلکی حرکت کے ساتھ ساتھ دل کی طاقت بڑھتی جاتی ہے لیکن ایسے مریض کے لئے تیز حرکت نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ جلسیمیم کے مریض کے دل میں کمزوری ہو تو