ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 266
کاسٹیکم 266 ایسے مریض آئے ہیں۔ایسے تمام مریض بوڑھے تھے۔کاسٹیکم کے مریض کی زبان پر سرخی مائل چمک پائی جاتی ہے۔خواتین کے ماہانہ ایام کے دوران خون آنے سے پہلے اور بعد میں تشنج ہوتا ہے لیکن حیض کے دوران تشیخی علامات نہیں ہوتیں۔اگر خون رک جائے تو شیخ ہوگا، چل پڑے تو شیخ ٹھیک ہو جائے گا۔اگر ماہانہ ایام کے دوران کوئی صدمہ پہنچ جائے یا کسی وجہ سے خوف طاری ہو یا کسی عزیز کی وفات ہو جائے تو حیض بند ہو جاتے ہیں۔اس صورت میں کاسٹیکم بھی دوا ہوسکتی ہے۔اسی طرح کسی صدمہ یا غم کی خبر سے دودھ پلانے والی عورتوں کا دودھ خشک ہو جاتا ہے اس وقت بھی کاسٹیکم مفید ہے۔کاسٹیکم کے مریض کے گلے کے فالج کا صرف نگلنے کے عضلات سے ہی تعلق نہیں ہوتا بلکہ بولنے کے آلے پر بھی یہ اثر انداز ہوتا ہے۔فاسفورس، برائیونیا اور کاسٹیکم۔یہ تین دوائیں ایسی ہیں جن کی آپس میں مشابہت ہے۔اگر انہیں عارضی بیماریوں میں ملا کر دیا جائے تو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ مثبت اثر بڑھ جاتا ہے۔یہ نسخہ 30 طاقت سے اونچا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔لیکن اگر یہ نسخہ کام نہ کرے اور اس میں شامل کوئی ایک دوا مریض کی علامتوں سے زیادہ مشابہ ہو تو نسخہ نا کام بھی ہو جائے تو وہ اکیلی دوا کام کر جاتی ہے۔مددگار دوائیں : کار بودیج۔پیٹر وسیلینم (Petrosel) دافع اثر دوائیں : کولوسنتھ۔ڈلکا مارا۔گائیکم نکس وامیکا طاقت: 30 سے سی۔ایم (CM) تک