ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 265

کاسٹیکم 265 پہچانے جاتے ہیں۔کاسٹیکم کے مسے چہرے اور ناک پر نکلتے ہیں۔ناک پر موٹا سامسہ نکل آئے تو یہ کاسٹیکم کی خاص نشانی ہے۔کاسٹیکم کی ایک اور علامت گلے کے اندر فالجی کیفیات کا پیدا ہونا ہے۔کاسٹیکم میں صبح کے وقت گلا بیٹھتا ہے۔کاسٹیکم کے گلے کی فالجی علامات تدریجاً پیدا ہوتی ہیں اور نگلتے ہوئے خطرہ ہوتا ہے کہ لقمہ غلط نالی میں نہ چلا جائے۔ایسی بہت سی اور دوائیں بھی ہیں مگر کام وہی آئے گی جو مزاجی ہو۔کاسٹیکم کا مزاجی مریض وہمی نہیں ہوتا اور کاسٹیکم کے مریض کی بھوک بعض دفعہ کھانا دیکھتے ہی ختم ہو جاتی ہے۔اگر وضع حمل کے وقت عورت کے گردوں پر اثر ہو، خوف، دباؤ یا سوزش کی وجہ سے پیشاب بند ہو جائے تو بسا اوقات کاسٹیکم ناگزیر ہو جاتی ہے۔بلکہ ایسی حالت میں یہ جان بچانے والی دوا بن جاتی ہے۔بعض عورتوں کو جنہیں وضع حمل کے بعد چوبیس گھنٹے تک پیشاب نہیں آیا جب کاسٹیکم دی گئی تو شروع میں خون والا پیشاب آیا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ گردوں میں سوزش تھی ، فالجی حالت نہیں تھی۔پھر پیشاب کے ساتھ خون کم ہونے لگا اور کھل کر پیشاب آنا شروع ہو گیا۔بعد میں انہیں پر برا بر یوا ( Pareira Brava) کا کورس دیا گیا کیونکہ پر یا گردوں کو دھونے اور پیشاب کو زیادہ کرنے میں عمومی طور پر اچھا اثر ظاہر کرتی ہے۔اگر عام حالات میں پیشاب رک جائے تو کاسٹیکم کی علامتیں بالکل مختلف ہوں گی۔مریض بیٹھ کر پیشاب نہیں کر سکتا۔کھڑا ہونے کی حالت میں پیشاب دباؤ کی وجہ سے خود بخود بہتا ہے، بے حسی ہوتی ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا۔جب یہ علامتیں اکٹھی ہو جائیں تو کاسٹیکم بہت نمایاں فائدہ پہنچاتی ہے۔میں یہ علامت نمایاں ہے کہ اگر انتڑیوں میں خصوصاً بڑی آنت کے آخری حصہ (Rectum) میں فالج ہو رہا ہو تو اجابت غیر شعوری طور پر ہوتی رہتی ہے کیونکہ وہاں فضلہ جمع ہو کر گٹھلیاں سی بن جاتی ہیں۔اس لئے چلتے پھرتے وہی گٹھلیاں لاشعوری طور پر نکلتی رہتی ہیں۔گو ایسے مریض بہت کم ملتے ہیں مگر میرے مشاہدہ میں بھی دو تین