ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 256

کارسینوسن 256 کینٹ کے نزدیک اگر چہ مکمل شفا نہیں ہوتی مگر کینسر پھیلنے کی رفتار بہت کم ہو جاتی ہے اور تکلیف کافی حد تک قابو میں آجاتی ہے۔ڈاکٹر کینٹ کی باتیں اکثر درست ہوتی ہیں۔اس لئے غالباً ان کا یہ تبصرہ بھی درست ہوگا۔لیکن میں نے کینسر کے بعض مریضوں میں کارسینوسن کو اس طرح کامیابی سے استعمال کیا ہے کہ پھر سالہا سال تک ان میں کینسر کی کوئی علامت لوٹ کر نہیں آئی مگر مریضوں کی اکثریت کے معاملہ میں کینٹ کا بیان ہی درست ہے۔کارسینوسن کے علاوہ دو دوائیں کینسر کے زخم پر پلنے والے بیکٹیریا سے تیار کی گئی ہیں۔یہ دونوں کینسر کے علاج میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئیں۔مائیکر وکوکسین (Micro Cocccine) مائیکر وکوکس جرثومہ سے تیار کی گئی ہے۔ڈاکٹرونیٹر نے اسے صرف کینسر کی زود حسی دور کرنے میں مفید پایا ہے۔دوسری دوا اوسلو کوکسین (Oslo Coccine) ہے جو اگر چہ کینسر میں فائدہ مند نہیں ہے مگر انفلوئنزا میں بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔ڈاکٹر فوبسٹر (Dr۔Fobester) نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کارسینوسن کھانے سے کینسر کی سب علامتیں پردونگ (Proving) کے طور پر ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ جن حصوں میں کمزوری ہو وہاں کچھ تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔ہوسکتا ہے (Lymphatic Glands) کار د مل گلے کی سوزش کی صورت میں اسی وجہ سے ظاہر ہوتا ہو کہ ان میں کینسر کا مادہ پایا جاتا ہو۔ان سب باتوں میں ابھی تحقیق کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر فوبسٹر نے اپنا ایک تجربہ بتایا ہے کہ کارسینوسن کھانے کے دس دن بعد جسم کا درجہ حرارت زیادہ ہو جاتا ہے اور بخار رہنے لگتا ہے۔ڈاکٹر فوبسٹر کے مطابق جن مریضوں میں کینسر کا رجحان ہو ان میں مندرجہ ذیل دوائیں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ٹیوبرکولینم ، میڈ ورائیٹنم ، نیٹرم میور اور سیپیا۔ان دواؤں کا تفصیلی ذکر کتاب میں موجود ہے۔الیو مینا، آرسنک البم ، آرسنک آیوڈائیڈ ، پلسٹیلا سٹیفی سیگریا ، فاسفورس اور کلکیر یا فاس وغیرہ بھی بہت مفید ہیں اور کینسر کے تعلق میں زیر نظر رہنی چاہئیں۔سیپیا اور سٹیفی سیگریا کا جذبات کو دبا دینے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بیماریوں