ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 230
230 کینتھرس میں زہر کے اثر کے دوران مریض اپنا تشخص بالکل کھو دیتا ہے اور یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی اور شخص کے زیر تصرف ہے۔یا حساس مستقل ہو جائے تو یہ پینتھرس کے زہر کا یہ نہیں بلکہ مستقل دماغی خلل کا نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ہو سکتا ہے ایسے مریض کو لینتھر س اونچی طاقت میں دینے سے یہ بیماری ٹھیک ہو جائے۔لینتھرس کا مزاجی مریض تشدد پسند اور اذیت پسند ہوتا ہے۔اسے غصہ بہت سخت آتا ہے۔ایسے اذیت پسند لوگوں کے لئے کلینتھرس اونچی طاقت میں بہترین علاج ثابت ہوسکتی ہے۔جو لوگ جنسی تشدد پسند ہوتے ہیں ان کے لئے سینتھرس مفید ہے۔کینتھرس میں مریض پانی سے خوفزدہ ہوتا ہے۔چھلکتے ہوئے پانی کی چیک دیکھتے ہی اسے شیخ ہو جاتا ہے۔اس میں بے چینی بہت ہوتی ہے جو شدید غصہ پر منتج ہوتی ہے۔کینتھرس کی جلن بہت بے چین کرتی ہے۔وحشت اور غصے کے دورے پڑتے ہیں۔قتل کرنے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔ہائیوںکس کی طرح معصوم بچیوں کا مخش کلامی کرنا کینتھرس میں بھی پایا جاتا ہے۔و کاٹنے والی شدید دردوں میں بھی لینتھرس بہت مفید ہے۔اعصابی رگوں کے ساتھ ساتھ جلد پر چھالے اور سوزش پائے جاتے ہیں۔یہ چھالے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں۔اس وجہ سے بہت خطرناک اور بہت گہرے اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔اگر آنکھوں کے قریب چہرے کے اعصاب پر ہوں تو مریض اندھا بھی ہوسکتا ہے۔اگر صرف ایک ہی طرف اثر ہو تو ایک آنکھ ضائع ہو سکتی ہے۔اس لئے اس کا فوری علاج ضروری ہے۔عام طور پر آرسنک، لیڈم اور لیکیسس کا نسخہ مفید ہے۔اگر بے چینی نہ ہو تو آرنیکا لیکلیس اور لیڈم فوری طور پر دیں۔اگر ان دونوں نسخوں سے فرق نہ پڑے تو پھر سینتھرس کے استعمال میں تاخیر نہ کریں۔اگر چھالے بڑے بڑے ہوں رسٹاکس بھی اس تکلیف میں بہت مفید ثابت ہوگی۔رسٹاکس کے مقابل ر کی تھرس کے مریض کو بے چینی بہت زیادہ ہوتی ہے جو آرسنک سے مشابہ ہے کینتھرس کے چھالوں کا رنگ تیزی سے بدلتا ہے اور اردگرد کی ساری جلد سیاہی مائل ہو جاتی ہے اور چہرے پر گینگرین کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔اس کیفیت میں بلاتاخیر سینتھرس دینی چاہئے۔