ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 231
کینتھرس 231 لمس کے ساتھ جلن کا شدید احساس ہوتا ہے۔اگر انتہائی سردی کے نتیجہ میں خون کا درجہ حرارت بھی تیزی سے گرنے لگے تو ایسے مریض کی زندگی بچانے کے لئے لینتھرس بھی بہت کام آتی ہے۔یہ سمجھتے ہوئے رد عمل کو بیدار کر دیتی ہے۔کینتھرس میں پیٹ ہوا سے تن جاتا ہے، معدہ اور خوراک کی نالی میں جلن ہوتی ہے اور سخت پیاس لگتی ہے۔مرک کار سینتھرس کی مزمن دوا ہے۔پیشاب کی شدید تکلیفوں میں مبتلا مریضوں کو مرک کارCM دینے سے بہت جلد فائدہ ہوتا ہے۔لینس سٹائیوا بھی CM طاقت میں بہت اچھا اثر دکھاتی ہے۔نیٹرم میور بھی 200 یا اونچی طاقت میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔اگر کسی کے پیشاب میں البیومن (Albumen) آئے تو لینتھرس کی دوسری علامتیں موجود ہونے کی صورت میں یہ البیومن کا بھی مؤثر علاج ہے۔البیومن نہ ہو تو عموما لینتھرس کے مریض کے پیشاب کی رنگت گہری سرخ ہوتی ہے۔عورتوں کی علامتوں میں حیض کی یہ مخصوص علامتیں شامل ہیں کہ حیض جلد اور بہت زیادہ آتے ہیں۔سیاہی مائل خون کا اخراج ہوتا ہے۔اگر بچے کی پیدائش کے بعد آنول (Placenta) اندر رہ جائے تو سیکیل کی طرح کیف تھرس کی مریضہ میں بھی رحم میں گینگرین بننے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔بیماری اس حد تک نہ بڑھی ہو تو رحم عموماً سوزش کا شکار رہتا ہے اور گندی رطوبت کا مسلسل اخراج ہوتا رہتا ہے۔بیضہ الرحم (Ovaries) میں بھی شدید درد اور جلن پائے جاتے ہیں۔دل کی دھڑکن کمزور اور بے قاعدہ ہوتی ہے۔کمر کے نچلے حصہ میں در درہتا ہے۔عرس کی تکلیفیں لمس سے ٹھنڈے پانی سے اور پیشاب کرتے ہوئے بڑھ جاتی ہیں۔دافع اثر دوائیں : ایکونائٹ کیمفر پلسٹیلا۔کینیبس سٹائیوا 30 یا بہت اونچی طاقت :