ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 229
229 56 CANTHARIS کینتھرس کینتھرس ایک زہریلی مکھی ہے۔پرانے زمانے میں سمندر میں سفر کرنے والے ملاح اس کا زہر فاحشہ عورتوں کو استعمال کرواتے تھے کیونکہ اس سے جنسی اعضاء کو انگیخت ملتی ہے۔اس زمانے میں اکثر بندرگا ہیں فحاشی کے اڈے بن چکی تھیں۔اب قانونی طور پر کینتھرس کے استعمال پر پابندیاں لگادی گئی ہیں۔اس لکھی کے کاٹنے سے سخت جلن پیدا ہوتی ہے۔ہو میو پیتھی میں اس کے زہر کو جلنے کی تکالیف دور کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے چھالے بہت بڑے نہیں ہوتے۔بڑے چھالوں میں رسٹاکس کیا تھرس سے بہتر کام کرتی ہے۔رسٹاکس میں بھی بہت جلن ہوتی ہے۔اگر آگ نے سارے بدن کو متاثر کر دیا ہو تو رسٹاکس 1000 طاقت میں چند بار دینے سے جلنے کی غیر معمولی تکلیف میں بہت جلد کمی آ جاتی ہے۔کیلنڈ ولا بھی ان دواؤں میں سے ہے جو ایسے موقعوں پر کام آتی ہیں۔کینتھرس میں اچانک ہر چیز سے لاتعلقی ، دہنی پراگندگی اور بے ہوشی کی علامت پائی جاتی ہے۔عجیب وغریب خیالات کا ہجوم ہو جاتا ہے۔یہ سب علامتیں کینیس انڈیکا کی یاد بھی دلاتی ہے لیکن ان دونوں میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ کینیس انڈیکا میں مریض پراگندہ خیالات کا لطف اٹھا رہا ہوتا ہے۔بیماری کا احساس نہیں ہوتا۔لیکن کینتھرس میں ذہنی پراگندگی بہت بڑھ جاتی ہے اور مریض کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کر رہا ہے۔یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ کوئی بیرونی طاقت اس پر قبضہ کئے ہوئے ہے جس کے زیر اثر وہ بول رہا ہے۔کینیں سٹائیوا میں بھی اسی قسم کی علامت ملتی ہے۔