ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 52
اليومينا 52 چلے ہے مگر وہ دوسروں کے لئے خطرناک نہیں ہوتا بلکہ فکر ونظر کی صلاحیتوں سے عاری ہوکر اپنی ذات میں کھو جاتا ہے۔اس کی ذہنی بیماری بعض اوقات بے صبری کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔یوں لگتا ہے جیسے وقت گزر ہی نہیں رہا اور دل چاہتا ہے کہ جلد گزرے۔تیز دھار آلات اور ہتھیاروں کو دیکھ کر ایسے مریضوں کے دل میں ایک زور دار لہر اٹھتی ہے کہ میں ان ہتھیاروں سے خود اپنے آپ کو زخمی نہ کرلوں۔ایسے مریض خود کشی نہیں کرتے بلکہ محض ڈراتے ہیں کہ وہ خود کشی کر لیں گے۔جیسے بعض لوگ اونچی جگہ سے نیچے دیکھیں تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں چھلانگ ہی نہ لگاویں۔الیو مینا کا مریض بہت عمگین رہتا ہے اور اپنے ماحول سے تنہا کہیں دور جانے کی خواہش رکھتا ہے۔کبھی خوف کھاتا ہے کہ کہیں میں پاگل ہی نہ ہو جاؤں۔صبح اٹھنے پر نفسیاتی علامات زیادہ ہوتی ہیں۔کبھی الیو مینا کا اثر کھانا اور پانی نکلنے والے عضلات پر پڑتا ہے اور چیز نکلنے میں رفتہ رفتہ دقت ہونے لگتی ہے۔کبھی ان عضلات کی کمزوری سے کھانا سانس کی نالی میں یا اوپر ناک کی نالی میں چلا جاتا ہے۔فالجی اثر بعض اوقات مثانے پر پڑتا ہے اور مقعد پر بھی۔پیشاب پوری طرح خارج کرنے کے لئے بھی اور فضلہ نکالنے کے لئے بھی مسلسل زور لگانا پڑتا ہے ، فضلہ نرم بھی ہو تو زور لگائے بغیر نہیں نکلتا۔پیشاب کی علامتیں پراسٹیٹ گلینڈ بڑھ جانے کی علامات سے ملتی جلتی ہیں۔بسا اوقات اجابت کی شکل میں بکری کی مینگنیوں یا اونٹ اور گھوڑے کی لید سے ملتی ہے یعنی چھوٹی چھوٹی یا بڑی بڑی گٹھلیوں کے ایک دوسرے کے ساتھ چپکنے سے جو فضلہ بنتا ہے کبھی پتلا اور کبھی موٹا ہوتا ہے اور خارج ہوتے وقت تکلیف دیتا ہے۔گریفائٹس اور پلیمم کے مریضوں میں بھی فضلہ کی ایسی ہی علامات پائی جاتی ہیں۔کبھی فالج کی بنا پر بغیر محسوس ہوئے پیشاب قطرہ قطرہ نکلتا رہتا ہے اور عضلات میں سکت نہیں 0 ہوتی کہ اسے بند کر سکیں۔یہی علامت فضلے کے بے اختیار تھوڑا تھوڑا نکلتے رہنے کی