ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 51

اليومينا 51 نفرت ہو جاتی ہے نا قابل ہضم چیزیں مثلاً مٹی ، کوئلہ وغیرہ کھانے کی خواہش کے ساتھ معدہ میں سوزش اور تشیخ کسی چیز کا ذائقہ ٹھیک نہیں رہتا ، کھٹے ڈکار آتے ہیں۔الیو مینا ان سب علامات میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔آرٹیر یوسکلر وسس سے ملتا جلتا اثر معدے پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔معدے کی رگیں اور خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے معدہ بہت تیزی سے بڑھاپے کے آثار ظاہر کرتا ہے۔یہ معدہ کی عارضی بیماریوں مثلاً تیزابیت وغیرہ اور مزمن بیماریوں میں بھی کام آتی ہے۔بواسیر کے پرانے مسوں کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس کی سب سے نمایاں علامت تیزابیت ہے۔مردوں اور عورتوں دونوں کی بیماریوں میں تیزابیت کے آثار بہت نمایاں ہوتے ہیں۔عورتوں کے لیکوریا میں اتنی تیزابیت ہوتی ہے کہ اس کے نتیجہ میں کئی دوسری بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔عورتوں کے تعلق میں اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ حمل کے دوران شدید قبض ہو جاتی ہے جبکہ عام حالات میں قبض نہیں ہوتی۔اگر قبض کا حمل کے ساتھ تعلق ہو تو الیو مینا آپ کے ذہن میں ابھرنی چاہئے۔یہ وہ تکلیف ہے جس میں الیو مینا عارضی طور پر بھی کام دکھاتی ہے اور دیرہ بینہ بیماری میں بھی۔یہ دائمی کھانسی میں بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔عام طور پر وہ کھانسی جو دائی ہو اور گلے کی بجائے پھیپھڑے کی خرابی سے تعلق رکھتی ہو اس میں پیسلینیم ، فاسفورس، آرسنگ آئیوڈائیڈ اور کالی کا رب عموماً مفید ثابت ہوتی ہیں لیکن اگر مزاجی علامتیں الیو مینا کی ہوں تو صرف الیو مینا سے ہی مستقل فائدہ ہوسکتا ہے۔الیو مینا کی ذہنی علامات میں ایک نمایاں علامت یہ ملتی ہے کہ آہستہ آہستہ انسان کی قوت فیصلہ ماؤف ہونے لگتی ہے اور مریض کر نہ کر ، کی غیر معین حالت میں معلق رہتا ہے۔رفتہ رفتہ ذہن دھندلا جاتا ہے اور ابہامات کا شکار ہو جاتا ہے۔مریض جو کچھ سنتا ہے اور جو کچھ دیکھتا ہے اسے یوں لگتا ہے کہ وہ نہیں بلکہ کوئی اور سن اور دیکھ رہا ہے۔بعض دفعہ اسے یوں لگتا ہے کہ اگر وہ کسی اور کے ذہن میں منتقل ہو تو اس کی آنکھوں سے دیکھ سکے گا۔رفتہ رفتہ بڑھتے چلے جانے والا یہ رجحان آخر ایسے مریض کو پاگل کر دیتا