ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 53 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 53

اليومينا صورت میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔53 53 الیو مینا کے مریض کو چکر بہت آتے ہیں اور چلتے پھرتے سر گھومتا اور توازن بگڑتا رہتا ہے۔پاؤں سن ہو جانے کا رجحان بھی ملتا ہے اور در دایک مقام سے سائیکل کے پہلے کے تاروں کی طرح چاروں طرف پھیلتے ہیں۔یہ سب علامات کسی مریض میں اکٹھی ہو جائیں تو الیو مینا اس کی یقینی دوا بن جائے گی۔ٹانگوں اور بازوؤں کی متوازن حرکت پر ارادہ کو اختیار نہ رہے اور چلنے میں پاؤں ادھر ادھر پڑیں تو الیو مینا کا لمبا استعمال ضرور فائدہ دیتا ہے۔نزلاتی اور جلدی علامات بکثرت ملتی ہیں۔نزلہ ناک میں مستقل اڈہ بنا بیٹھتا ہے ناک ہر وقت خشک مواد سے بھرا رہتا ہے جو بسا اوقات لمبے خشک ہوئے ہوئے ”چوہوں“ کی شکل میں ناک کو بھر دیتے ہیں۔آنکھوں پر نزلہ گرے تو نظر دھندلا دیتا ہے۔اندرونی جھلیوں یعنی معدے انتڑیوں اور گردے کی جھلیوں پر لمبے عرصہ تک سوار رہتا ہے۔جب بھی نزلہ ہو یا سردی لگ جائے سر درد شروع ہو جاتا ہے۔نزلاتی جھلیوں کی طرح جلد بھی ہر قسم کی بیماریوں کا شکار رہتی ہے۔کھجلا کر جگہ جگہ سے موٹی کھال کی طرح ہو جاتی ہے۔زخم بھی بنتے ہیں اور نا سور بھی۔سلفر کی طرح بستر کی گرمی سے خارش بہت بڑھ جاتی ہے۔چہرے پر یوں لگتا ہے جیسے جالا سا تنا گیا ہو یا انڈے کی سفیدی لگانے کے بعد خشک ہو گئی ہو۔ناک کی چونچ میں کٹاؤ پڑ جاتا ہے۔آنکھوں پر سوزش اور بعض دفعہ ککرے بن جاتے ہیں۔الیومینا کا فاتجی اثر فلیکرز (Flexors) پر بھی پڑتا ہے اور ایکسٹینسر ز (Extensors) پر بھی فلیکسر زان عضلات (Muscles) کو کہتے ہیں جو ہاتھ پاؤں کو اندر کی طرف کھینچتے ہیں اور ایکسٹینسر زان عضلات کو کہتے ہیں جو ان کو باہر کی طرف کھولتے ہیں۔عموماً جن غذاؤں سے الیو مینا کے مریض کی تکلیفیں بڑھتی ہیں ان میں نمک ،شراب، سرکہ، مرچیں ، آلو اور گیس والے مشروبات شامل ہیں۔بواسیر اور مقعد کا کناروں سے پھٹ جانا یہ اس کی خاص علامت ہے۔ا