ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 825
انڈیکس تشخیص امراض (REPERTORY) 826 گلے میں پیپ پڑنے کا رجحان ہو اور اندر کوا بھی سوجا ہوا ہو تو کالی بائی کروم (Kali Bichrom) ضروری ہے۔غدودوں میں شدید سوجن کے ساتھ سختی پائی جائے اور جگہ جگہ پیپ کے دھبے نظر آئیں، نگلتے وقت درد کانوں تک چلا جائے ، حلق میں خشکی اور جلن بہت ہو تو فائیٹیو لا کا (Phytolacca) انتہائی ضروری ہے۔گلے کی نئی اور پرانی تکلیفوں میں ہرایسے مریض کے لئے برائیٹا کارب (Bryta Carb) بہت مفید ہے جس کی غدودویں بیماری کے ہر حملہ کے بعد پہلے سے کچھ اور موٹی اور سخت ہو جاتی ہیں اور اپنے پہلے حجم کی طرف واپس نہیں لوٹتیں۔گلے سے خوفناک بد بو آئے تو مرکزی (Mercurius) کے مرکبات کا مطالعہ کر کے دوا تلاش کریں۔گلے کی خطرناک تکالیف میں ٹرینٹولا ہسپانیہ (Tarentula Hispania) کی جسمانی اور نفسیاتی علامات کا بغور مطالعہ ضروری ہے۔شدید درد اور ایسے زخم جو کٹے پھٹے ہوں، منہ میں بے حد بد بودار لعاب ہو تو نائیٹرک ایسڈ (Nitric Acid) دوا ہوگی۔نزلاتی بیماریوں میں برومیم (Bromium) کا ذکر گزر چکا ہے۔ٹانسلز (Tonsils) کے لئے اسے دوبارہ احتیاط سے پڑھ لیں۔سخت سوزش، گلے میں پھانس اٹکنے کا احساس، بخارا اور جسم سے سخت کھٹی بو ہسپر سلف (Hepar Sulph) کی علامات ہیں۔سیفیلینم (Syphilinum)200 یا 1000 طاقت میں گلے کی ہر خرابی کے آغاز میں استعمال کرنی مفید ہے۔نیز مندرجہ ذیل نسخے کام آ سکتے ہیں۔فائٹولا کا (Phytolacca) + پیٹیشیا (Baptisia) + کالی میور Kali) Mur + کلکیر یا فلور (Calcarea Fluor) + سلیشیا (Silicea) ملا کر 30 طاقت میں روزانہ تین بار، اگر گلے میں درد زیادہ ہو تو سلیشیا (Silicea) کی بجائے ہسپر سلف