ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 720
روٹا 720 پھیلاؤ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے ان کے استعمال سے آہستہ آہستہ اعصاب میں جان پڑ کر لچک پیدا ہو جاتی ہے اور وہ خود بخود اپنی اصل حالت کی طرف واپس لوٹنے لگتے ہیں۔اس پہلو سے روٹا بھی رسٹاکس کی ہم پلہ دوا ہے۔اعصابی ریشے زخمی ہو جائیں تو عام اعصابی طاقت کی دوائیں کام نہیں کرتیں۔آرنیکا بھی اثر نہیں کرتی لیکن روٹا اور رسٹاکس حیرت انگیز اثر دکھاتی ہیں۔اگر اپریشن کے دوران سرجن کی بداحتیاطی سے چاقو ہڈی کی سطح کو زخمی کر دے تو روٹا اس زخم کو تیزی سے مندمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔نشتر کے لگائے ہوئے زخموں میں جہاں اعصابی ریشے زخمی ہو جائیں ہائی پیریم (Hypericum) بھی بہت مفید ہے۔کسی ہڈی پر ضرب آ جائے یا فریکچر ہو جائے تو روٹا دینے سے شفا کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے۔روٹ ہڈی اور اس کے اردگرد کے اعصاب کو تقویت دیتی ہے۔روٹا کے ساتھ کلکیر یا فاس اور سمفا ٹیٹم (Symphytum) کو ملا لیا جائے تو بہت مفید نسخہ بنتا ہے۔کلکیر یا فاس ہڈی کے اندرونی مادے کے لئے اور سمفائیٹم اور روٹا اعصابی رگ وریشہ کو طاقت دینے کے لئے مفید ہیں۔اگر چوٹ تازہ ہو تو آرنیکا 30 بھی ملا لینی چاہئے۔روٹا عموماً پر خون مریضوں کی دوا ہے۔اس میں خون بہنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔مختلف بخاروں ، اعصابی دردوں اور معدے کی کمزوری میں مفید ہے۔روٹا کا مریض بہت حساس ہوتا ہے۔جلد غصہ میں آ جاتا ہے۔چلنے سے کمزوری محسوس کرتا ہے۔ٹانگیں بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں۔اعضاء میں تھکن اور درد خصوصاً کمر اور پیٹھ میں درد روٹا کی نمایاں علامات ہیں۔چت لیٹنے سے درد کی شدت میں کمی آتی ہے۔آرام سے عموماً تکلیف بڑھتی ہے اور حرکت سے کم ہو جاتی ہے۔روٹا میں کانوں کی پچھلی ہڈی میں درد کا احساس اور کانوں میں بوجھ محسوس ہوتا ہے۔چہرے کی ہڈی میں درد، مسوڑھے بھی دکھتے ہیں اور آسانی سے خون نکل آتا ہے۔آدھی رات کو کھانسی اٹھتی ہے۔سینے میں تنگی اور بوجھ کا احساس ہوتا ہے اور حجرے میں درد ہوتا ہے جیسے چوٹ لگی ہو۔ٹخنوں کی موچ کے علاج میں روٹا کا ذکر دوسرے ابواب میں بھی گزر چکا ہے۔اس