ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 656 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 656

فاسفورس 656 اعصاب سکون چاہتے ہیں اور بوجھ برداشت نہیں کرتے۔سخت زود حس ہو جاتے ہیں۔کمزوری فاسفورس کی ایک عام علامت ہے۔دیر بینہ بیماریوں میں یہ آہستہ آہستہ اثر دکھانے والی دوا ہے لیکن حاد بیماریوں میں یہ سریع الاثر ہے۔اگر ہاتھوں، کلائی، کہنیوں یا پاؤں کے جوڑ اچانک جواب دے جائیں تو فاسفورس دوا ہو سکتی ہے۔بعض دفعہ مریض کی نیند بے چین ہوتی ہے، لمبی گہری نیند نہیں آتی اور بلا وجہ آنکھ کھلتی رہتی ہے۔یہ اعصابی تناؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس میں فاسفورس بہت جلد فائدہ دیتی ہے۔بادلوں کی گھن گرج سے تکلیفیں بڑھ جائیں تو اس کا بھی فاسفورس سے تعلق ہے۔بعض دفعہ موسم تبدیل ہونے سے پہلے ہی بیماری کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔انتہائی حساس سائنسی آلے بھی موسم کے جس تغیر و تبدل کو محسوس نہیں کر سکتے ، فاسفورس کے مریض محسوس کر لیتے ہیں۔ان کا مرض موسم تبدیل ہونے سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔فاسفورس کی ایک علامت یہ ہے کہ سیڑھیاں چڑھنے سے تکلیف بڑھتی ہے۔گو یہ علامت اپنی ذات میں کوئی ایسی چیز نہیں جو کسی خاص دوا کی نشاندہی کرے۔تا ہم فاسفورس کی بھی یہ علامت ہے کہ سیڑھیاں چڑھنے میں اس کے مریض کو دقت پیش آتی ہے۔نیٹرم میور اور نکس وامیکا کے علاوہ پوٹیشیم پر مینگینیٹ بھی فاسفورس کا تریاق ہے پوٹیشیم پر مینگینیٹ زود حسی کا علاج ہے اور اسے عموماً اعضاء کے سن ہو جانے کے رجحان کو دور کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔سخت نزلہ جسے فاسفورس کی ضرورت ہو، بروقت علاج نہ ہونے پر دائی ہو جاتا ہے۔اندرونی جھلیاں جواب دے جاتی ہیں۔اس وقت بھی اس کا علاج فاسفورس ہی ہے۔گلے اور میوکس ممبرین (Mucous Membrane) یعنی اندرونی جھلیوں میں ہر جگہ پویشیم پر مینگینیٹ اور فاسفورس کے بداثرات مشترک ہیں لیکن اعصابی علامتوں میں مشترک نہیں اس لئے اسے ہر جگہ فاسفورس کے تریاق کے طور پر استعمال نہیں کر سکتے۔