ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 655 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 655

فاسفورس 655 ہے فاسفورس کی علامت ہے جو کا سٹیکم میں بھی پائی جاتی ہے۔کاسٹیکم اور فاسفورس کی اور بھی بہت سی علامتیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔فاسفورس میں پیاس بہت محسوس ہوتی ہے۔ٹھنڈے پانی سے آرام ملتا ہے لیکن پانی معدہ میں گرم ہونے پر قے ہو جاتی ہے۔اپریشن کے بعد شدید متلی ہو جو قابو نہ آئے تو اس میں بھی فاسفورس کارآمد ہے۔Pigmentation کی خرابی کی وجہ سے پیٹ، چھاتی اور گردن کے حصوں پر زرد رنگ کے نشان بن جاتے ہیں۔یہ دراصل کلاہ گردہ کی کمزوری ہوتی ہے اور گردوں پر اس دوا کا غیر معمولی اثر ہوتا ہے۔منہ کی اندرونی تکلیفوں میں بھی فاسفورس وسیع الاثر ہے۔مسوڑھے جواب دے جائیں اوران سے ہلکے رنگ کا بد بودار خون بہنے لگے تو فاسفورس کام کرتی ہے۔یہ خون روکنے کی اولین دوا ہے۔اسی طرح اگر نفاس کا سرخ خون بھی ہلکا ہلکا دیر تک جاری رہے اور بد بو نمایاں ہو تو فاسفورس اکثر کام کرتی ہے۔رقم میں الیکشن اور رسولیاں ہوں تو اس سے بھی خون جاری ہو جاتا ہے لیکن بعض دفعہ اس خون میں بدبو نہیں ہوتی۔کم از کم آغاز میں یہ خون بغیر بد بو کے ہوتا ہے۔اس میں بھی فاسفورس مفید ہے۔گلا بیٹھنا بھی فاسفورس کی نشانی ہے۔فاسفورس کے علاوہ کار بوویج، کاسٹیکم ، بوریکس اور کوکا بھی گلا بیٹھنے کے علاج میں بہت شہرت رکھتے ہیں۔کار بوویج کے مریض کا گلا شام کو بیٹھتا ہے اور صبح کے وقت زیادہ خراب نہیں ہوتا۔فاسفورس میں بھی یہی علامت پائی جاتی ہے۔کاسٹیکم میں صبح کے وقت گلا خراب ہوتا ہے اور شام کوٹھیک ہو جاتا ہے۔فاسفورس میں گلے کی زود حسی کی وجہ سے کھانسی اٹھتی ہے۔بننے یا زور سے بات کرنے سے کھانسی شروع ہو جاتی ہے اور گلے میں سوزش بھی ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ گلے میں خارش ہونے کی وجہ سے کھانسی اٹھتی ہے کیونکہ بلغم خشک ہو کر چپک جاتا ہے اور بے چینی اور کھجلی پیدا کرتا ہے۔اس تکلیف میں رسٹاکس اور ہیپر سلف حسب علامات مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔فاسفورس کی بے چینی محض اعصابی زودحسی سے تعلق رکھتی ہے۔جو تقریباً اس کی ہر بیماری میں پائی جاتی ہے۔غیروں کی موجودگی میں تکلیف بڑھتی ہے۔