ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 587
میڈورائینم 587 میں بھی میڈ ورائینم مفید ہے۔غیر معمولی بھوک کی علامت سور ائینم میں بھی ملتی ہے لیکن سورائینم کی بھوک رات کے وقت زیادہ بے قرار کرتی ہے۔جگر کی خرابی کی وجہ سے پیٹ میں پانی بھر جائے تو میڈ ورائینم مفید ثابت ہوتی ہے۔بن ران کے گلینڈز کی خرابی اور سوزش میں بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔اس کی قبض کی علامت یہ ہے کہ گول اور سخت اجابت ہوتی ہے اور پیشاب گہرے رنگ کا، کم مقدار میں اور سخت بدبودار ہوتا ہے اور بہت کم آتا ہے۔امکان ہے کہ ایسے مریض جن کے جوڑوں میں درد کی وجہ سے چلنے پھرنے میں دقت ہو اور وہ لنگڑے سے ہو جائیں، ان میں بھی میڈ ورائینم مفید ثابت ہو۔کثرت پیشاب جو شوگر کی وجہ سے نہیں بلکہ اعصابی تکلیف کی وجہ سے ہو، اس میں بھی یہ دوا بہت مفید ہے۔گردے، مثانے اور پراسٹیٹ گلینڈز کی تکلیفوں سے اس کا گہرا تعلق ہے۔اگر گردے کے درد کا شدید دورہ پڑے تو اس میں اولین نسخدا یکونائٹ اور بیلاڈونا ملا کر دینا ہے۔اگر دونوں کو 1000 کی طاقت میں ملا کر دس دس منٹ کے وقفہ سے دو خوراکیں دیں تو اللہ کے فضل سے بہت سے مریضوں کو فوری آرام آجاتا ہے۔اگر ایسے مریض کی تکلیف گرمی کی بجائے سردی سے بڑھتی ہو تو پھر میگ فاس 6x بار بار دینے سے یا کولوسنتھ ایک لاکھ کی طاقت میں صرف ایک خوراک دینے سے بعض دفعہ جادو کی طرح اثر ہوتا ہے۔درد کے اس دورہ کے رفع ہونے کے بعد گردے کی پتھریوں کا مستقل علاج ہونا چاہئے۔اگر گردے کا درد پتھریوں کی وجہ سے نہ ہو بلکہ سوزش کی وجہ سے ہو تو اس کی مستقل دوا تلاش کرنی چاہئے جو میڈ ورائینم بھی ہوسکتی ہے۔میڈ ورا ئینم کا بہرے پن سے بھی تعلق ہے۔بعض اوقات کان میں ایسی خرابی ہوتی ہے جس کا اعصاب سے تعلق ہوتا ہے اور بظاہر کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ایسا بہرہ پن جو مزمن ہو جائے اور بڑھتا چلا جائے اس میں میڈ ورا ئینم استعمال کر کے دیکھنا چاہئے۔میڈ ورائینم بروقت دینے سے فائدہ ہوتا ہے۔سلفر کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔میں نے بعض مریضوں کو جن میں کان کی ہڈی کی خرابی کی وجہ سے تیزی سے