ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 588 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 588

میڈورا میکنم 588 بہرہ پن پیدا ہو رہا تھا سلفر CM استعمال کروائی۔اس سے ہڈی کی بیماری ختم ہوگئی اور بہرہ پن جہاں تک پہنچا تھا وہیں رک گیا۔میڈ ورائیٹنم میں کھانا چباتے وقت دانت بہت حساس ہو جاتے ہیں۔اسی طرح منہ میں زخم جو کٹے پھٹے موٹے کناروں والے ہوں، بنے لگتے ہیں۔ٹخنوں کی مزمن تکلیفوں میں بھی میڈ ورائینم کارآمد ثابت ہوتی ہے۔بعض اوقات اندرونی اعضاء کی مردانہ اور زنانہ بیماریوں میں جو دبے ہوئے سوزاک کی آئینہ دار ہوں بالکل متضاد علامات واقع ہوتی ہیں۔جذبات میں یا تو غیر معمولی ہیجان پیدا ہو جاتا ہے یا پھر جذبات بالکل ختم ہو جاتے ہیں بلکہ جنسی تصور سے ہی نفرت ہو جاتی ہے۔مریض درمیانی حالت میں نہیں رہتا، یا ایک انتہا پر یا دوسری انتہا پر۔دمہ سے بھی اس دوا کا گہرا تعلق ہے۔دمہ کے لئے عموماً نیٹرم سلف بہت اہم دوا کبھی جاتی ہے۔جن بچوں میں سوزاک کی علامتیں موروثی طور پر پائی جائیں ان کے دمہ میں اکثر نیٹرم سلف مفید ہے لیکن علامتوں کو واضح کرنے کے لئے میڈ ورائینم بھی دینی پڑتی ہے۔بعض اوقات نیٹرم سلف اثر نہیں کرتی اور میڈ ورائینم بہتر کام کرتی ہے۔کلکیر یا سلف بھی دمہ میں ایک بہت نمایاں اثر دکھانے والی دوا بتائی جاتی ہے۔اگر بلغم بہت گہرا جم جائے اور نکالنے میں سخت دقت پیش آئے اور دوسری علامتی دوائیں کام نہ کریں تو میڈ ورا ئینم بھی شفا کا موجب ہوسکتی ہے۔چھاتی کے نیچے گہری بلغم کے لئے کالی آئیوڈائیڈ اور آرسنک آئیوڈائیڈ بھی فائدہ مند ہیں۔اگر بلغم اکھڑنے سے زخم ہو جائیں اور رسنے والے ناسور کی شکل اختیار کر لیں تو کالی آئیوڈائیڈ زیادہ مفہ ہے۔اگر زخم بہت گہرا نہ ہو اور سطحی ہو تو آرسنک آئیوڈائیڈ اچھا کام کرتی ہے۔جوڑوں کی تکلیف میں جس میں بجلی کے کوندوں کی طرح درد کی لہر میں اٹھیں اور چھاتی میں زیادہ شدت سے درد محسوس ہو، میڈ ورا ئینم مفید بتائی جاتی ہے۔لیکیس کی طرح میڈ ورائینم میں بھی سینہ کے بائیں طرف جلن کا احساس ہوتا ہے۔ریڑھ کی ہڈی کے منکے ایک طرف ہو جائیں اور اعصاب دب جائیں، ٹانگوں کی طرف اتر نے والی