ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 551
551 ہے۔یہ نزلہ سر کے ایگزیما میں بھی تبدیل ہو جاتا ہے جس میں سر پر ایک سخت خول سا بن جاتا ہے جس کے اندر جراثیم پلتے ہیں۔اگر یہ خول پھٹ جائے تو اس سے نہایت بد بودار مواد خارج ہوتا ہے اس ایگزیما کو مقامی طور پر علاج سے دبا دیا جائے تو ناک میں انتہائی خطرناک نزلہ شروع ہو جاتا ہے جو ٹھیک نہیں ہوتا۔اس بیماری میں لیکیس اور سورا ئینم دونوں سے بہت بہتر دوا میزیریم (Mezereum) ہے۔ایک دفعہ میرے پاس ایک بچہ لایا گیا جسے شدید ضدی قسم کا نزلہ تھا، کسی علاج سے آرام نہیں آتا تھا ، ناک سے شدید بو آتی تھی جو سارے کمرے میں پھیل جاتی تھی۔خوش قسمتی سے میں نے ان دنوں میز یرم کے بارے میں نیا نیا پڑھا تھا۔میں نے اسے میز پرم دی تو فوراً نزلہ ٹھیک ہو گیا۔لیکن سر پر شدید ایگزیما ظاہر ہو گیا۔چند دنوں میں اللہ کے فضل سے میز بریم سے ہی یہ ایگزیما بھی بالکل ٹھیک ہو گیا۔لیکیس اور سورائینم دونوں اینٹی سورک (Anti Psoric) ہیں۔جلد پر بعض دفعہ خون کے کچے کچے چھالے ابھر آتے ہیں۔لیکیس ان خون کے چھالوں کی چوٹی کی دوا ہے۔عام طور پر کیس میں آرنیکا کی طرح سیاہی مائل خون بہتا ہے لیکن چہرے پر سرخ رنگ کے خون کے چھالے بنتے ہیں جن کا لیکلیس سے ہی تعلق ہے۔اس میں مسوڑھوں سے بھی خون بہتا ہے ، زبان بالکل خشک ہو کر چمڑے کی طرح ہو جاتی ہے، منہ بھی بالکل خشک ہوتا ہے لیکن پیاس نہیں ہوتی۔منہ اور زبان کا خشک ہونا جلسیمیم کی بھی یاد دلاتا ہے لیکن لیکیسس اپنی دوسری علامتوں کی وجہ سے ممتاز ہو جاتی ہے۔لیکیسس میں تھوک صابن کے جھاگ کی طرح ہو جاتا ہے ، مزے کے لحاظ سے نہیں بلکہ شکل سے یوں لگتا ہے جیسے صابن کی جھاگ ہو۔بعض دفعہ گاڑھی ، سخت ، مضبوط دھا گے دار زردرنگ کی رطوبت خارج ہوتی ہے۔کالی بائیکروم (Kali Bichrome) میں یہ علامت سب سے نمایاں ہے۔لیکیٹس میں مائع چیز گلے میں پھنسنے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے، خصوصاً گرم مشروب سے تکلیف ہوتی ہے۔سانپ کے تقریباً سب زہروں کے نتیجہ میں شیخ پیدا ہوتا ہے اور