ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 550 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 550

550 چاہئے کیونکہ اونچی طاقت میں بار بار اور غیر ضروری طور پر دینے سے خطرناک نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔بعض اوقات برقان مزمن شکل اختیار کر لیتا ہے۔ایسی صورت میں لیلیس بہت کام آنے والی دوا ہے۔لیلیس کی ایک علامت یہ ہے کہ یرقان ہو جائے تو اس کے ساتھ متلی بھی ہوتی ہے۔چیلی ڈونیم میں بھی یرقان اور متلی کی علامات اکٹھی ملتی ہیں۔اسی طرح اپی کاک بھی مفید ہے لیکن یہ یرقان کے لئے اتنی طاقتور دوا نہیں ہے۔ہاں بعض صورتوں میں معمولی فائدہ دیتی ہے۔اگر یرقان کے ساتھ لیکیس کی عمومی علامتیں بھی پائی جائیں اور متلی بھی ہو تو یہ بہت اچھا کام کرتی ہے اس کے ساتھ ساتھ پتہ کی پتھری میں بھی اگر لیکیسس کی دیگر علامات موجود ہوں تو فائدہ مند ثابت ہوگی۔گلے میں ہلکی سی دکھن کا احساس ہو اور جب اسے ہاتھ سے دبایا جائے تو آنکھوں میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے۔اسی طرح کان میں کوئی آلہ ڈال کر معائنہ کیا جائے تو سخت کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔کان، گلے اور آنکھ کی نالیوں کا آپس میں تعلق ہوتا ہے۔ان تینوں اعضاء میں کسی ایک جگہ تکلیف ظاہر ہو اور اسے چھیڑا جائے تو دوسری جگہ بھی اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔یہ پلیس کی خاص علامت ہے۔اس کے استعمال سے تینوں اعضاء کی تکلیفیں خدا کے فضل سے دور ہو جاتی ہیں۔بعض اوقات آنکھوں کے وہ غدود جو آ نسو بناتے ہیں ان میں زخم بن جاتے ہیں جو بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں لیکلیس ان زخموں میں بھی بہت مفید ہے۔یہاں لیکیسس کی خاص پہچان یہ ہے کہ چہرے پر ایگزیما، ابھار اور چھالے وغیرہ بننے لگتے ہیں۔غالباً چہرے کی یہی تکلیفیں آنکھوں کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں۔صرف آنکھوں کے زخموں سے پلیس کی پہچان نہیں کی جاسکتی۔اگر چہرے کی علامتیں نمایاں ہوں تو اس صورت میں آنکھ کے زخم کے لئے بہترین دوا ہے۔مثلاً آنکھ کے مسچولا (Fistula) میں کالی بائیکروم کی طرح لیکیس بھی چوٹی کی دوا ہے۔لیکیس میں نزلہ زکام کے دوران ناک سے خون بھی بہتا ہے۔اس قسم کی بار یک علامتوں پر غور کرنے سے دواؤں میں با ہم تمیز کی جاسکتی ہے۔سورا ئینم اور لیکیسس میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں میں ناک سے شدید بد بو دار نزلے کا مواد خارج ہوتا