ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 552 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 552

552 خوراک اور پانی گلے میں پھنستا ہے لیکیس میں گرم مشروب سے اس کیفیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ ٹھنڈے پانی سے قدرے افاقہ ہوتا ہے۔یہ علامت لیکیسس کے عمومی مزاج سے برعکس ہے کیونکہ اس میں مریض کا جسم ٹھنڈا ہوتا ہے اور وہ گرمی کو پسند کرتا ہے لیکن گلے کے تشنج میں لیکیس کا مریض بیلا ڈونا کے مریض سے مشابہ ہو جاتا ہے۔بیلا ڈونا میں گرمی سے تکلیف بڑھتی ہے اور سردی سے ان میں کمی آ جاتی ہے۔ایپس کی تکلیفیں بھی گرمی سے بڑھتی ہے اور سردی سے آرام آتا ہے۔سیلیس ، بیلا ڈونا اور ایپس میں یہ علامت مشترک ہے۔لیکن لیکیس میں ٹھنڈے مشروب سے آرام آتا ہے اور اچھا بھی لگتا ہے مگر ساتھ ہی اس سے متلی شروع ہو جاتی ہے۔یہ کیس کی واضح پہچان ہے۔۔لیکیس سے ملتی جلتی خشک کھانسی کو بیلا ڈونا سے بھی آرام آ جاتا ہے۔اگر لیکیس کے غلط استعمال سے کھانسی ہو جائے یا کسی کولیکلیس نامی سانپ کاٹ لے اور وہ بچ جائے اور اسے مسلسل خشک کھانسی ہو جائے تو اس میں بیلاڈونا بہت مفید ہے۔اگر چہ بیلاڈونا مزمن دوا نہیں ہے بلکہ درمیانے درجہ کی دوا کہلاتی ہے۔لیکن یہ لیکیسس کے بداثرات کو جو کھانسی میں تبدیل ہو جائیں، دور کر دیتی ہے۔اسی طرح لیلیس بھی بیلا ڈونا کے بداثرات کو زائل کر سکتی ہے۔لیکیس پیٹ کی ہوا کے لئے بھی مفید ہے۔اس کے مریض کا پیٹ ہوا سے تن جاتا ہے۔اگر یہ معلوم کر لیا جائے کہ مریض کا مزاج کس دوا کا مطالبہ کرتا ہے تو صحیح معنوں میں اس کی مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔سرد موسم میں مریض بہت ٹھنڈا ہو اور پیٹ میں ہوا بھی ہو جائے تو سورائینم مفید ہے۔رکی ہوئی ہوائیں جاری ہو جاتی ہیں لیکن ان میں سخت بد بو ہوتی ہے۔میں بھی ہوا خارج ہونے سے پیٹ کا تناؤ کم ہو جاتا ہے لیکن ہوا میں بد بو نہیں ہوتی۔مددگار دوائیں لائیکوپوڈیم۔ہسپر سلف۔نائیٹرک ایسڈ دافع اثر دوائیں: آرسنگ۔مرکزی طاقت 30 سے 1000 تک