ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 360
ڈروسرا کا نہ بھی ہو۔360 ڈ روسرا کو عورتوں کے حیض ختم ہونے کے زمانے میں پیدا ہونے والی علامتوں میں بھی استعمال کرنا چاہئے کیونکہ اس دور کی بیماریوں کی علامتیں ڈروسرا سے بہت ملتی ہیں۔چہرہ کی تمتماہٹ، خون کے دوران کا کسی خاص عضو کی طرف ہو جانا اور بے چینی وغیرہ ڈروسرا میں پائی جاتی ہیں۔ڈروسرا کا مریض اکیلا رہنے سے گھبراتا ہے اور شکی مزاج ہو جاتا ہے۔اپنے قریبی دوستوں پر بھی اعتبار نہیں کرتا۔سانپ کے زہر سے تیار کی جانے والی اکثر دواؤں میں بھی ایسی علامت پائی جاتی ہے۔ڈروسرا کا مزاجی مریض تو ہمات کا شکار ہوتا ہے۔بے چینی اور پست ہمتی کے علاوہ ہمیشہ زندگی کے تاریک پہلوؤں پر نظر رکھتا ہے۔بے حد چڑ چڑا ہو جاتا ہے۔سرخصوصاً پیشانی میں درد ہوتا ہے اور رخسار کی ہڈیوں کے رستے باہر کی طرف پھیلتا ہے۔کھلی ہوا میں چلنے سے چکر آتے ہیں اور بائیں طرف گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔بائیں طرف آدھے چہرے پر شدید سردی کے ساتھ ڈنک دار دردوں کا احساس اور داہنے آدھے چہرے پر خشکی اور گرمی کا احساس بھی ڈروسرا کی امتیازی علامت ہے۔اگر کھانے کے بعد حنجرے میں سرسراہٹ ہو اور کھانسی شروع ہو جائے تو ڈروسرا سے فائدہ ہوسکتا ہے۔دیسی کیکر کے درخت پر جب پھلیاں آتی ہیں تو اس موسم میں کھانسی کی وبا بہت پھیلتی ہے۔اس کھانسی میں ڈروسرا بہت مفید دوا ہے۔ڈروسرا میں سانس کی نالی میں تنگی اور سکرن کا احساس ہوتا ہے۔ایسی کھانسی جس میں گلے میں بے چینی کا مستقل احساس رہے اور کھانسنے سے بھی آرام نہ آئے ، اس میں ڈروسرا بہت کارآمد ہے۔آدھی رات کے بعد شروع ہونے والی کھانسی اور وہ کھانسی جو بولنے سے بڑھ جائے ، اس میں بھی ڈروسرا مفید ہے۔بچوں میں کالی کھانسی تکیے پر سر رکھتے ہی شروع ہو جاتی ہے اور پھر اس کا دورہ دو تین گھنٹے تک چلتا ہے۔بچہ کھانس کھانس کر نڈھال ہو جاتا ہے لیکن سکون