ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 359 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 359

ڈروسرا 359 90 ڈروسرا روٹنڈ یفولیا DROSERA ROTUNDIFOLIA (Sundew) ڈروسرا ایک ایسا پودا ہے جو گوشت خور ہے اور کیڑے مکوڑے کھاتا ہے۔اس کے پتوں کی سطح پر سرخی مائل بال ہوتے ہیں جن سے رطوبت خارج ہوتی ہے جو کیڑے مکوڑوں کو قابو کرنے اور انہیں ہضم کرنے میں محمد ثابت ہوتی ہے۔یہ رطوبت سورج کی روشنی میں شبنم کے قطروں کی طرح چمکتی ہے۔اس کے پتے زمین پر پھیلے ہوتے ہیں۔جونہی کوئی کیڑا قریب آتا ہے یہ پتے فور بند ہو جاتے ہیں اور وہ کیڑا ان کی غذا بن جاتا ہے۔سولہویں صدی میں ڈروسرا کو تپ دق کے علاج کے سلسلہ میں بہت شہرت ملی لیکن اس کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ جن مریضوں نے اس کو استعمال کیا وہ ان مریضوں کی نسبت جلدمر گئے جنہوں نے اسے استعمال نہیں کیا۔تپ دق کے علاوہ اسے دانت درد، پاگل پن اور وضع حمل کی تکلیفوں کو کم کرنے کے لئے بھی استعمال کیا گیا۔ہو میو پیتھی طریقہ علاج میں اس پودے کے عرق سے دوا تیار کی جاتی ہے۔جسے عموما کھانسی میں استعمال کیا جاتا ہے۔چنانچہ اس دوا کو زیادہ تر کالی کھانسی سے ہی مخصوص کر دیا گیا ہے۔حالانکہ اسے دراصل تشیع سے مخصوص کرنا چاہئے تھا کیونکہ تشیخی علامات میں اس کا دائرہ عمل زیادہ ہوتا ہے۔صرف کھانسی میں ہی نہیں بلکہ بعض دوسری بیماریوں میں بھی ڈر وسر اتشنج دور کرنے کے کام آتا ہے۔اسی طرح یہ مرگی میں بھی مفید ہے۔صحیح کے نتیجہ میں بے ہوشی کے دورے کے بعد ڈا روسرا کا مریض بہت فکر مند اور بے چین رہتا ہے۔اس پریشانی کو دور کرنے میں ڈروسرا ایک بلند پایہ دوا ہے خواہ یہ شیخ مرگی