ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 350

ڈیجی ٹیلس 350 دل کا ہر وہ مرض جس میں جگر کی خرابی یقینی طور پر موجود ہو اور آغاز میں نبض ہلکی اور دبی ہوئی ہوا ایسے مرض کی ہر شکل میں ڈائیگی کیلس بہترین کام کرتی ہے۔یہ جگر تھی اور پھیپھڑوں پر بھی بہت مثبت اثر ڈالتی ہے۔محض اس خطرہ سے ڈیجی ٹیلس کو نظر انداز کرنا کہ ایلو پیتھی میں اس کا غلط استعمال ہوا ہے درست نہیں ہے۔اسے دل کی بیماریوں میں ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔تاہم بعض چوٹی کے ہومیو پیتھک ڈاکٹر مثلاً ڈاکٹر کینٹ جولمبا عرصہ ایلو پیتھک ڈاکٹر رہے ہیں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ڈیجی ٹیلس کے غلط استعمال سے موت کے سامان زیادہ ہوئے ہیں اور زندگیاں کم بچائی گئی ہیں کیونکہ یہ صرف وقتی فائدہ دیتی ہے اور دل کے عضلات کی طاقت ختم کر دیتی ہے اور تمام اعصابی ریشوں کو نا کارہ کر دیتی ہے۔لیکن یہ تبصرہ ہومیو پیتھک طریقہ استعمال پر ہرگز اطلاق نہیں پاتا کئی ہو میو پیتھ ڈاکٹر کینٹ کے اس تبصرے کونہ سمجھنے کی وجہ سے اس دوا کے استعمال سے خائف رہتے ہیں حالانکہ ان کا حملہ اس کے ایلو پیتھک طریق استعمال پر ہے نہ کہ ہومیو پیتھک طریق استعمال پر۔ڈیجی ٹیلس میں ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس میں بخار نہیں ہوتے ،شاذ کے طور پر ہی کسی کو بخار ہو گا۔نبض ست ہوتی ہے، جگر میں دکھن اور بڑے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔جگر کی خرابی دل کی خرابی پر منتج ہو تو پہلے اجابت ہلکے یا مٹیالے رنگ کی ہوتی ہے، یرقان کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔معدے میں خالی پن اور ڈوبنے کا احساس بھی ہوتا ہے۔یہ خصوصی علامت صرف چند دواؤں میں ہے۔سلفر میں بھی ایسی کمزوری محسوس ہوتی ہے،مگر سلفر کے مریض کو کھانا کھانے سے آرام آ جاتا ہے لیکن ڈیجی ٹیلس میں کھانے سے آرام نہیں آتا کیونکہ دراصل یہ معدہ کی تکلیف نہیں ہوتی بلکہ دل کے ڈوبنے کا احساس معدہ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بعض دفعہ دل کی تکلیف معدہ میں یا اس کے نیچے بائیں طرف انتڑیوں کے اوپر کے حصہ میں محسوس ہوتی ہے اور دل کے ماہرین بھی پتہ نہیں لگا سکتے کہ یہ دل کی تکلیف ہے یا معدے اور انتڑیوں کی۔بعض دفعہ اس کے برعکس معدہ کی تکلیفیں دل میں محسوس ہوتی ہیں اور دل