ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 351 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 351

ڈیجی ٹیلس کی دواؤں سے کچھ آرام نہیں آتا۔351 اگر کھانا کھانے سے آرام نہ آئے بلکہ کھانے سے معدے پر بوجھ پڑ جائے اور دوران خون بڑھ جائے تو یہ دل کی تکلیف کی علامت ہے اور ڈیجی ٹیلس کی ایک پہچان ہے۔ڈیجی ٹیلس میں مریض سوتے ہوئے بہت بے چینی محسوس کرتا ہے۔بہت خوفناک خوا میں آتی ہیں۔خوفناک نظارے، نیچے گرنے کا احساس اور بھاگنے کی خواہش پائی جاتی ہے اور بلندی سے گرنے کی خوا ہیں آتی ہیں۔دراصل دل کے ڈوبنے کا احساس خواب میں جسم کے گرنے کے احساس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔سوتے ہوئے جھٹکے بھی لگتے ہیں۔یہ اعصاب اور دل کی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے۔آنکھ لگتے ہی زور دار جھٹکے سے آنکھ کھل جاتی ہے۔یہ علامت گرائینڈ یلیا سے مشابہ ہے۔ڈیجی ٹیلس میں چہرہ پر نیلا ہٹ آجاتی ہے۔یہ خون کی گردش میں خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ہاتھ پاؤں کی انگلیاں بھی نیلی ہو جاتی ہیں جبکہ گرائینڈ ملیا میں یہ علامتیں نہیں ملتیں ہاں کیو پرم میں یہ نیلا ہٹ کی علامتیں پائی جاتی ہیں مگر دل کی تکلیف کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے عوارض کے باعث۔ڈیجی ٹیلس میں بیماریوں کے آغاز میں نبض آہستہ ہوتی ہے لیکن بعد میں تیز ہو جاتی ہے۔اگر بنیادی علامتیں ڈیجی ٹیکس سے مشابہ ہوں تو پھر نبض خواہ کتنی تیز بھی ہوڈیجی ٹیلس ہی کام آئے گی۔نبض تیز ہونے کی وجہ سے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔عموماً اس کی نبض میں بہت کمزوری پائی جاتی ہے۔اگر نبض کی رفتار تیز بھی ہو پھر بھی کمزور ہوگی۔آرسنک میں نبض پہلی مگر تیز ہوتی ہے اور اس میں تناؤ ملتا ہے۔غم کے نتیجہ میں دل کا حملہ ہو تو اس میں بھی ڈیجی ٹیلس مفید ہے۔دل پھڑ پھڑاتا ہے یا اچانک چلتے ہوئے بند ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔بے انتہا بے چینی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔دل کے رکنے کا احساس ڈیجی ٹیلس کی خاص علامت ہے۔اگر دل کی تکلیف کی وجہ سے کھانسی (Cardiac Cough) ہو تو ڈیجی ٹیلس سے فائدہ ہوسکتا ہے۔پھیپھڑوں