ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 326
کونیم رکھتی ہے۔326 نظر کی کمزوری میں بھی کو نیم مفید ہے۔کو نیم غدودوں کی سختی اور گانٹھوں کو تحلیل کرنے میں بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔جب تک یہ علامتیں بڑھ کر کینسر میں تبدیل نہ ہو جائیں عموماً ان غدودوں میں درد محسوس نہیں ہوتا۔معدے کے کینسر میں کو نیم گوغیر معمولی اہمیت کی دوا ہے مگر وہاں بھی یہی مشکل پڑتی ہے کہ جب تک کینسر نہ بن جائے ،معدہ میں پیدا ہونے والا کوئی درد کو نیم کی نشاندہی نہیں کرتا۔اگر دیر ہو جائے تو کو نیم صرف وقتی آرام دیتی ہے۔اس کے دینے سے زندگی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے مگر اس وقت یہ کینسر کو جڑوں سے نہیں اکھیڑ سکتی۔ہاں بعض دفعہ اتنا نمایاں فرق پڑتا ہے کہ لگتا ہے جیسے کینسر غائب ہو گیا ہو لیکن وہ غائب نہیں ہوتا بلکہ کچھ دیر کے لئے دب جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ تین سے چار سال تک آرام کے دوران پھر ظاہر ہو جاتا ہے اور جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔اس لئے معدے کی علامتوں سے اس کی شناخت کی کوشش نہ کریں۔ہاں کسی مریض میں کو نیم کی عمومی علامتیں پائی جائیں مثلاً کو نیم سے مشابہ چکر ، تو اسے بلا تاخیر شروع کر دینا چاہئے۔اس کے نتیجہ میں کینسر کے حملہ کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہتا۔کو نیم میں ٹھنڈ سے تکلیف بڑھتی ہے۔جو غدود سوج جائے وہ وہیں اسی حالت میں رہ جاتا ہے، واپس اپنی پہلی حالت کی طرف نہیں لوٹتا۔بعض دفعہ پیٹ میں ایسے درد کی لہریں دوڑتی ہیں جیسے چاقو سے کاٹا جارہا ہو۔زخموں کے اردگرد چھالے بن جاتے ہیں۔گردن کے دونوں طرف سوجے ہوئے غدودوں کا سلسلہ پہلوؤں پر نیچے تک اترتا جاتا ہے۔ان میں ایسا مواد پیدا ہوتا ہے جو غدودوں کو سخت کر دیتا ہے اور بیماری بڑھتی رہتی ہے۔اگر وہ ٹھیک بھی ہو جائے تو غدود پہلی حالت پر واپس نہیں آتے۔بغلوں کے غدود بھی سوج جاتے ہیں اور ان میں زخم بننے کا رجحان ہوتا ہے۔عورتوں کے سینے میں بھی چھوٹی چھوٹی گانٹھیں اور ابھار سے بنے لگتے ہیں۔کو نیم میں ایک علامت برائیٹا کارب سے مشابہ بھی پائی جاتی ہے۔برائیٹا کا رب میں جلد کے اندر چربی کی گلٹیاں بنتی ہیں جو بڑی ہو کر بہت بھری اور بدزیب دکھائی دیتی ہیں۔اگر وہ برائیٹا کارب سے ٹھیک نہ ہوں تو ا