ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 327
کونیم 327 دوسری دواؤں کی طرف توجہ کرنی چاہئے جن میں سے ایک کو نیم بھی ہے۔کینسر کی گٹھلیاں جو جلد پر ظاہر ہوکر پھٹ جائیں ان کا بہترین مقامی علاج شہد کا لیپ کرنا ہے۔شہد پر ہونے والی جدید تحقیق اس کی پر زور تائید کرتی ہے۔قرآن کریم میں شہد میں پائی جانے والی جس غیر معمولی شفا کا ذکر ہے، شہد پر ہونے والی نئی تحقیق اس کے نئے نئے مشاہدات پیش کر رہی ہے۔جسم پر لرزہ شیخی جھٹکے، کمزوری اور چکر کونیم کی عام تصویر پیش کرتے ہیں۔مثانہ کمزور ہو جاتا ہے اور جگر بڑھ جاتا ہے اور غدود پھول جاتے ہیں اگر پیشاب خارج کرنے میں دقت ہو اور پوری طرح فراغت نہ ہو تو بعید نہیں کہ یہ بات پراسٹیٹ گلینڈ کی بیماری کی نشاندہی کرتی ہو۔ایسی صورت میں کو نیم دینے میں کوئی تاخیر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اگر یہ مریض کو نیم کا ہوا تو کو نیم بر وقت شروع نہ کرانے کی صورت میں پراسٹیٹ گلینڈ میں کینسر بھی بن سکتا ہے۔کسی مریض کو اگر پراسٹیٹ کینسر ہو جائے تو میرے تجربہ میں اس کی بہترین دواسلیشیا ایک لاکھ ہے۔پندرہ دن کے وقفہ سے ایک ایک خوراک دی جائے تو چند خوراکوں ہی سے خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کینسر کا قلع قمع ہوسکتا ہے۔مگر یہ دوا تبھی کارآمد ہوتی ہے اگر پلسٹیلا یا سلیشیا کی عمومی علامتیں مریض میں پائی جائیں۔کو نیم کی دماغی علامتوں میں یادداشت کی کمزوری اور عمومی دماغی کمزوری جس سے مریض سوچ بچار نہیں کر سکتا پائی جاتی ہیں۔یہی کمزوری بڑھ کر آرٹیر یوسکلر وسس (Arteriosclerosis) میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔کو نیم کا مریض چڑ چڑا اور بدمزاج ہو جاتا ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں سے گھبرا جاتا ہے اور بے چینی اور اکتاہٹ کا اظہار کرتا ہے۔کو نیم کے مریض کے لئے شراب اور الکحل وغیرہ نا قابل برداشت ہوتا ہے۔نشہ آور چیزوں سے لرزہ ، دماغی اور جسمانی کمزوری پیدا ہوتی ہے۔سر میں سخت درد ہوتا ہے۔کو نیم کی بہت سی علامتیں کا کولس سے ملتی ہیں۔دونوں میں چکر پائے جاتے ہیں لیکن دونوں کے چکروں میں یہ فرق ہے کہ کونیم میں لیٹے لیٹے چکر محسوس ہوتے ہیں اور سارا