ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 245
کار بوویچ 245 سکتے ہیں اور کھل بھی سکتے ہیں۔معدے کا ایک منہ اوپر کی طرف دل کے قریب واقع ہوتا ہے اس کو Cardic End کہتے ہیں یعنی دل والا کنارہ اور دوسرا منہ معدے کی اس گردن کے کنارے پر ہوتا ہے جو نیچے انتریوں کی جانب کھلتی ہے۔فاسد تیزابیوں کے باعث یہ دونوں منہ سکڑ جاتے ہیں اور کھانے کا محلول جس میں فاسد تیز ابوں کا غلبہ ہوتا ہے، گیسوں سے معدے کو بھر دیتا ہے۔اوپر کی طرف کا منہ نسبتا آسانی سے کھل جاتا ہے۔ایسی بد بودار گیسوں کے ڈکار کچھ تیزاب کے ساتھ کھانے کی نالی کی طرف چڑھتے ہیں۔اس وقت وہاں سخت تیزابیت کا احساس ہوتا ہے اور ڈکاروں سے گندی بو بھی آتی ہے۔انتڑیوں کی طرف واقع منہ پر جب دباؤ زیادہ ہو تو تب کھلتا ہے۔ویسے بھی کھانے کو ہضم ہونے کے لئے معدے میں تین گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔اس کے بعد یہ محلول نیچے انتڑیوں کی طرف اتر جاتا ہے۔اور ساری انتڑیوں کی نالی کو تعفن سے بھر دیتا ہے۔اس محلول پر جرثومے اور پیٹ کے کیڑے بھی خوب پلتے ہیں جن کی وجہ سے مزید تعفن پیدا ہوتا ہے۔کار بوویج ان علامتوں کی اصلاح کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو کچھ دیر کے مسلسل استعمال کے بعد اس نظام کو معمول پر لے آتی ہے۔ނ کار بو ویج اور کار بو اینی میلس دونوں اس پہلو سے قدر مشترک رکھتی ہیں کہ اگر انہیں مناسب طاقت میں دیا جائے تو پیٹ کے جرثومے اور کیڑے مارنے کے کام آتی ہیں لیکن بعض جرثومے اور کیڑے معدہ اور انتڑیوں میں مستقل ٹھکانہ بنا لیتے ہیں اور ان نجات حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔میرے تجربہ میں پیٹ کے عام کیڑوں کے لئے سب سے مؤثر دوائیں سینٹونینم (Santoninum)، سائنا (Cina) اور ٹیوکریم (Teucrium) ہیں۔ان کے علاوہ اگر چہ ہو میو پیتھی کتابیں ، سباڈیلا کا ذکر نہیں کرتیں اور سباڈیلا کو محض چھینکوں اور ناک کی خارش کے ضمن میں بیان کیا جاتا ہے لیکن میں نے اسے پیٹ کے کیڑوں کے لئے بھی کامیابی سے استعمال کیا ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ناک کی الرجی اور خارش وغیرہ نظام ہضم میں کیڑوں کی موجودگی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔وہ جو معدے اور انتڑیوں میں سنسناہٹ