ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 244

کار بوویچ 244 دوران خون کی کمزوری اور عضلاتی کمزوریوں دونوں کو دور کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ موت کے قریب کے لحات میں نئی حرکت پیدا کرنے میں کار بوو بیج کام آتی ہے۔کار بودیج کی ایک اور اہم بنیادی علامت یہ ہے کہ یہ جسم کو کالی کا رب کے لئے تیار کرتی ہے۔کالی کا رب میں بہت سی علامتیں کار بود یج سے ملتی ہیں لیکن کار بو ویج اپنے اثرات کے لحاظ سے بہت نرم دوا ہے جبکہ کالی کا رب بہت سخت رد عمل دکھاتی ہے۔چونکہ کالی کا رب کی اکثر بیماریاں مزمن ہوتی ہیں اور اگر براہ راست کالی کا رب سے ہی شروع کیا جائے تو خطرہ ہوتا ہے کہ بہت شدید رد عمل پیدا ہو جائے گا۔اس لئے کالی کا رب سے پہلے کار بوویج دینی چاہئے خصوصا ہاتھ پاؤں اور کلائی کے جوڑوں کے درد میں علاج کا آغاز کار بو و بیج سے کرنا چاہئے۔جب میں نے ہومیو پیتھی شروع کی تو شروع شروع میں میں پہلے کار بو ویج دیتا تھا۔تجربہ سے مجھے علم ہوا کہ کار بود یج بذات خود در دوں اور تکلیفوں میں کچھ نہ کچھ اثر دکھاتی ہے اور کمر درد اور اعصابی دردوں میں مفید ثابت ہوتی ہے لیکن اگر بلڈ پریشر زیادہ ہو اور چہرے پر تناؤ ہو تو بیلاڈونا اور ایکونائٹ کار بوویج کی نسبت زیادہ مفید ہیں۔ایکونائٹ اور بیلاڈونا کے علاوہ رسٹاکس دینے کے بعد بھی حسب علامات کار بو ویج یا کالی کا رب دئے جا سکتے ہیں اور ان کے بعد اثر کو مزید آگے بڑھانے کے لئے کلکیریا کا رب کام آتی ہے۔ان دواؤں میں کاربن کا عنصر مشترک ہے اور کاربن کا اعصاب سے گہراتعلق ہے۔کار بو ویج کے مریض کے معدے میں تیزابیت کی زیادتی ہائیڈروکلورک ایسڈ یعنی نمک کے تیزاب کے زیادہ پیدا ہونے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس اکثر اس کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔جب معدے کا قدرتی تیز اب کم ہو تو کھانا اندر گلتا سڑتا رہتا ہے اور اس کے نتیجہ میں فاسد تیزاب پیدا ہونے لگتے ہیں۔ان تیزابوں کی زیادتی نظام ہضم پر قیامت ڈھا دیتی ہے۔مبتدی کو سمجھانے کی خاطر سادہ الفاظ میں یہ بتانا کافی ہوگا کہ معدے کی دو گردنیں ہوتی ہیں جن کے کنارے پر منہ بنے ہوتے ہیں جو بند بھی ہو