ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 246
کار بوویچ 246 پیدا کرتے ہیں وہی ناک اور منہ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔بورک (Boericke) ریپرٹری میں بھی سباڈیلا کا ذکر کیٹروں کے تعلق میں موجود ہے۔حالانکہ سباڈیلا کے باب میں بورک اس کا ذکر نہیں کرتا۔علاوہ ازیں ایک دوا کا ربوا نیمیلس ہے جو پیٹ کے کیڑوں خصوصاً کدو دانوں (Hookworms) کے لئے چوٹی کی دوا ہے اور بھی بہت سی دوائیں ہیں جو پیٹ کے مختلف کیڑوں کے تدارک کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔اس کے لئے عند الضرورت کسی تفصیلی ریپرٹری کا مطالعہ کریں۔۔کار بو ویج میں شام کے وقت گلا بیٹھنے کی علامت پائی جاتی ہے۔ہاتھ پاؤں سوتے ہیں۔دماغی اور جسمانی طور پر ستی طاری ہو جاتی ہے اور سارا نظام حیات ہی ست رفتار ہو جاتا ہے۔جسم کے اندر جلن کا احساس ہوتا ہے جبکہ بیرونی طور پر سردی محسوس ہوتی ہے۔مریض عمو ما غم ، خوشی اور تعجب کی خبروں سے بے نیاز ہو جاتا ہے گویا ، دماغ ان باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔محسوس ہوتا ہے کہ سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔اس میں سر درد عموماً گدی میں بیٹھ جاتا ہے جس کا نزلہ سے تعلق ہوتا ہے۔بالآخر سارے سر میں درد محسوس ہوتا ہے جیسے ہتھوڑے چل رہے ہوں۔ہتھوڑے چلنے کی علامت نیٹرم میور میں بھی ہے۔سر کے بال بھی گرنے لگتے ہیں۔ماتھے پر ٹھنڈا پسینہ آتا ہے۔رات کو مریض خوفزدہ ہو جاتا ہے اور جنوں اور بھوتوں کا خیال آنے لگتا ہے۔کانوں سے سخت بد بودار مادے خارج ہوتے ہیں جو عموماً کسی گہری انفیکشن اور بخار کے نتیجہ میں نکلتے ہیں۔کار بو ویج میں دائمی نزلہ جسم کے کسی بھی عضو پر حملہ آور ہوسکتا ہے اور عموماً ایسا مریض مستقل بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔اگر کار بوویج کے نزلہ کو کسی اور طریقہ علاج سے دبا دیا جائے تو خطرناک نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔اس کا کار بو ویج سے ہی علاج ہونا چاہئے۔کار بو ویج میں یہ خوبی بھی ہے کہ کسی دبی ہوئی بیماری کی علامتیں واضح نہ ہوں تو انہیں نمایاں کر دیتی ہے۔منہ میں زخم ہو جائیں اور سفید سفید نشان بن جائیں، مسوڑھے خراب ہو جائیں اور دانت ہلنے لگیں تو بشرطیکہ کار بودیج کی دیگر علامتیں موجود