ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 243

کار بوویچ 243 علاج کیا گیا اور وہ مریض شفایاب ہو گیا۔کاربو ویج بہت نازک لمحات میں کام آنے والی دوا ہے اور دمہ کی بیماری میں اس کی خاص علامت یہ ہے کہ ٹھنڈا پسینہ آتا ہے اور مریض کا بدن بھیگ جاتا ہے لیکن وہ ہوا کا مطالبہ کرتا ہے چنانچہ بعض دفعہ اس کے چہرے پر تیزی سے پنکھا جھلنا پڑتا ہے۔اس کے برعکس آرسنک کا مریض بالکل خشک ہوتا ہے اور اس کے سینہ میں بلغم بھی نہیں کھڑ کھڑاتی۔کار بوویج دل کی بیماریوں میں جہاں دل کے اعصاب جواب دے رہے ہوں، بہت مفید ہے۔یہ عموماً اعصاب کا بہترین ٹانک ہے۔معدہ میں ہوا کا دباؤ اوپر کی طرف ہو تو اس میں بھی کار بو ویج اچھی دوا ہے۔بہت سی دواؤں میں پیٹ کی ہوا کا ذکر ملتا ہے اور صرف علامتوں سے دوا پہچانا مشکل ہے اس لئے مختلف دوائیں آزمانی پڑتی ہیں۔لمبا طبی تجر بہ دواؤں کو پہچاننے میں مدد دیتا ہے یعنی دوائیں بار بار کے تجربہ سے اپنی علامتیں خود ظاہر کرتی ہیں خواہ پر دونگ (Proving) میں وہ علامتیں ظاہر نہ ہوئی ہوں۔آرسنک آیوڈائیڈ میں بھی معدہ کی ہوا کا ذکر ملتا ہے۔لیکن دراصل یہ معدہ کے تیزابی ناسوروں اور ان کے بداثر سے پیدا ہونے والی تکلیفوں کی دوا ہے۔کار بوویج میں ہوا سارے پیٹ میں نہیں بلکہ ایک حصہ میں اوپر کی طرف دباؤ ڈالتی ہے جس میں تعفن بھی پایا جاتا ہے۔کار بودیج کے اسہال میں بھی بد بو ہوتی ہے اور مریض بہت کمزوری محسوس کرتا ہے۔اس لحاظ سے اس کی علامات پیٹیشیا سے ملتی ہیں لیکن پیٹیشیا اس بیماری میں زیادہ گہری دوا ہے اور ٹائیفائیڈ کے بدبودار اسہال میں بھی بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔کاربو و یج وہاں کام نہیں کرتی۔کار بودیج کی علامات میں ہاتھ اور پاؤں کا سونا بھی شامل ہے۔ٹانگیں بھی سن ہو جاتی ہیں خاص طور پر پنڈلیوں کے اعصاب پر اثر ہوتا ہے۔پنڈلیوں کے عضلات کو عموماً دوسرا دل کہا جاتا ہے کیونکہ یہ خون کو نیچے سے پمپ کر کے اوپر بھیجتے ہیں۔اچانک کھڑے ہونے سے سر خالی خالی ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ پنڈلیوں سے خون صحیح طرح پمپ ہو کر اوپر نہیں آیا۔اس کیفیت میں کار بوویج بہت مفید ہے کیونکہ یہ