ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 242
کار بوویچ 242 نارمل کر دیتی ہے۔مریض جب آخری دموں پر ہو تو خون کا دباؤ اکثر گر جاتا ہے۔کار بو ویج کی ایک خوراک سے ہی اچانک گرمی پیدا ہونے لگتی ہے۔ایک دفعہ ایک مریض کو دل کا شدید حملہ ہوا۔جب میں وہاں پہنچا تو وہ بظاہر بے جان ہو چکے تھے۔ماتھے پر سخت ٹھنڈا پسینہ تھا اور سانس کا لعدم تھا۔میں نے فوراً کار بوویج کے دو تین قطرے ان کے منہ میں ٹپکا دیئے۔تھوڑی دیر میں ہی ان کا سانس بحال ہو گیا۔ماتھے کا پسینہ ختم ہو گیا اور جسم میں آہستہ آہستہ گرمی پیدا ہونے لگی۔ان کی حالت سنبھلنے پر میں نے انہیں دل کی طاقت کے لئے دوائیں دیں لیکن اس مزید علاج کے قابل بنانے میں کار بوویج نے حیرت انگیز اثر دکھایا۔ان کے علاوہ میں نے اور بھی بہت سے مریضوں پر یہ تجربہ کیا ہے اور ہمیشہ اسے بہت مؤثر پایا ہے۔اس لئے زندگی بچانے کی دوا کے طور پر اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہئے۔کار بود بیج کا گہرا تعلق دمہ سے بھی ہے۔دمہ میں یہ عموماً ایسے مریضوں کے کام آتی ہے جن کا جسم سخت ٹھنڈا اور پسینہ سے شرابور ہو جائے اور کمزوری کا یہ عالم ہو کہ بلغم باہر نکالنے کی بھی طاقت نہ ہو۔ایسے مریض عموماً دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو امونیم ٹارٹ کی علامات رکھتے ہیں۔ان کی علامتیں امونیم ٹارٹ کی سطح تک پہنچنے سے پہلے اپی کاک سے ملتی ہیں۔جب اپی کاک کی علامتیں زیادہ بگڑ جائیں تو پہلے اینٹی مونیم کروڈ کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں۔ساتھ ہی معدے کی تکلیف بھی شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے زبان پر بہت گہری سفید رنگ کی تہہ جم جاتی ہے۔اگر ایسے مریض کی حالت زیادہ خراب ہو جائے ، سینہ بلغم سے بھرا ہوا ہو اور وہ سخت کمزور ہو چکا ہو تو اینٹی مونیم ٹارٹ مرتے ہوئے مریض کو سنبھال لیتی ہے اور اس خطر ناک مرحلہ سے اسے باہر نکال لاتی ہے۔لیکن یہ دمہ کا مستقل علاج نہیں ہے۔کار بو ویج بھی اینٹی مونیم ٹارٹ سے ملتی جلتی دوا ہے۔ایک دفعہ دمہ کا ایک مریض اسی کیفیت سے دو چار تھا اور حالت بہت تشویشناک تھی۔میں نے اسے کار بوو یج دی جس سے فوراً اس کے جسم میں کچھ طاقت پیدا ہوئی۔بلغم باہر نکالی اور سانس جو بند ہو رہی تھی بسہولت دوبارہ جاری ہوگئی۔اس کے بعد دمہ کا