ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 164

برائیونیا 164 اکثر وہ تکلیفیں جو سردی کے موسم کے ختم ہونے کے بعد گرمیوں کے آغاز میں شروع ہوتی ہیں ان میں برائیو نیا بہت کام آتی ہے۔اس تبدیل ہوتے ہوئے موسم میں عموماً نمونیہ بہت کثرت سے ہوتا ہے کیونکہ جب اچانک گرمی آتی ہے تو جسم کا بیرونی حصہ تکلیف محسوس کرتا ہے لیکن اندرونی حصہ ابھی اس تبدیلی کا عادی نہیں ہوتا اس لئے یکدم گرم کپڑے اتار دینے سے کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو براہ راست گرمی سے نہیں بلکہ گرمی میں ٹھنڈ لگنے سے بڑھتی ہیں۔ایسے موسم کے نمونیہ کے لئے برائیو نیا بہترین دوا ہے۔برائیو نیا کی علامات والانمونیا اکثر دائیں پھیپھڑے میں ہی رہتا ہے۔دائیں سے بائیں حرکت نہیں کرتا۔لائیکو پوڈیم کا نمونیہ دائیں سے شروع ہو کر بائیں پھیپھڑے کو بھی متاثر کرتا ہے اور وہاں ٹھہر جاتا ہے۔برائیونیا میں تکلیفیں اوپر سے نیچے کی طرف بھی حرکت کرتی ہیں اور رفتہ رفتہ پھیپھڑوں کے نچلے حصہ میں منتقل ہو جاتی ہیں اور وہاں جا کر مقام بنا لیتی ہیں۔برائیونیا چونکہ مزمن بیماریوں کی دوا نہیں ہے اس لئے بیماری کی اس حالت میں اور دوائیں دینی پڑتی ہیں۔کالی کا رب ان میں سے ایک نمایاں دوا ہے جو پھیپھڑوں کے نچلے حصے سے تعلق رکھتی ہیں۔آرسنک آئیوڈائیڈ اور کالی آئیوڈائیڈ بھی مفید ہیں۔اگر تپ دق کی وجہ سے پھیپھڑوں پر داغ پڑ جائیں اور سوراخ ہو جائیں تو مر کسال اور کالی کا رب دینے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ایک خاتون کے پھیپھڑوں میں سل کے نتیجہ میں سوراخ ہو گئے تھے اور ڈاکٹروں کے نزدیک ان کا کوئی علاج نہیں تھا۔جب ہومیو پیتھک طریق پر ان کا علاج مرکسال 200 اور کالی کا رب 30 سے کیا گیا تو چند مہینوں میں وہ بالکل صحت یاب ہو گئیں۔جب ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ایکسرے لیا تو ان سوراخوں کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔وہ یہ یقین کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ یہ وہی مریضہ ہیں۔ہو میو پیتھی دوائیں جب اثر دکھاتی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو کتنی عظیم دفاعی طاقتیں عطا فرمائی ہوئی ہیں جن کا ڈاکٹروں کو ابھی تک بہت باریک ریسرچ