ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 165

برائیونیا 165 کے باوجود پتہ نہیں چل سکا۔ان عظیم دفاعی طاقتوں کا جسم کی کیمسٹری سے گہرا تعلق ہے مثلاً جگر کو یہ پیغام ملتا ہے کہ فلاں بیماری سے مقابلہ کرنے کے لئے فلاں کیمیکل کی ضرورت ہے، وہ پیدا کرنا شروع کر دو۔کسی اندھے ارتقائی عمل سے تو یہ ممکن نہیں۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنی گہری باتیں اتفاقاً ایک طویل ارتقا کے عمل سے خود بخود ایک مضبوط اور مربوط نظام بن کر جسم کا حصہ بن جائیں اور ایسی قطعیت کے ساتھ کام کریں کہ ان کے باریک مخفی اسرار کبھی مٹ نہ سکیں۔اگر کسی کی صحت اچھی ہو تو روایتی علاج کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی اور نظام دفاع از خود بیماریوں سے نپٹ لیتا ہے لیکن اگر طبعی نظام دفاع از خود مقابلے کے لئے تیار نہ ہو تو ہومیو پیتھک دوا اس کو متحرک کر دیتی ہے۔سادہ زندگی گزارنے والے لوگ جو محنت کش ہوتے ہیں وہ اکثر امیر لوگوں کی بڑی بڑی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں کیونکہ ان کے جسم کے اندر ہر وقت ایک دفاعی نظام ان کی حفاظت کا انتظام کرتا ہے۔حالانکہ وہ اسی فضا میں سانس لیتے ہیں اور اسی علاقہ میں رہتے ہیں جہاں رہنے والے دوسرے لوگ کئی قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔جسم کا دفاعی نظام خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی عظمتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ہومیو پیتھک معالجین کو اس پر بھی غور وفکر کرنا چاہئے کیونکہ یہ نظام اس عظیم الشان نظام کی خوبیوں کو اجاگر کرتا ہے اور انہیں ایک روشن حقیقت کے طور پر سامنے لے آتا ہے۔برائیونیا کے مریض جوڑوں کے دردوں میں گرمی سے آرام محسوس کرتے ہیں۔کھانسی عموماً حرکت اور شور کی وجہ سے زیادہ ہو جاتی ہے اور بیلا ڈونا کی علامتیں دکھائی دیتی ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ برائیو نیا میں بیلاڈونا کا اچانک پن نہیں ہے۔برائیونیا میں آہستہ آہستہ تکلیفیں بڑھتی ہیں اور آخر اتنی شدت اختیار کر لیتی ہیں کہ ہر قسم کی حرکت ، آواز اور شور سے تکلیف ہونے لگتی ہے اور پھر ایسا مریض تیمارداری کے لئے آنے والوں کو بھی نا پسند کرتا ہے اور چڑنے لگتا ہے۔اس غصہ اور چڑ چڑاہٹ کی وجہ یہ ہے کہ مریض کو ہر حرکت سے تکلیف ہوتی ہے۔منہ کی حرکت سے بھی اسے تکلیف ہوتی ہے اور وہ بولنا نہیں چاہتا اور وہ کمزوری بھی محسوس کرتا ہے۔اگر ایسے مریض کو نمونیہ ہو یا