ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 163
برائیونیا 163 کے بعد لاعلاج قرار دے دیا۔جب یہ سمجھا کہ اب دو تین دن کے مہمان ہیں تو انہیں ہسپتال سے فارغ کر کے گھر بھجوا دیا گیا۔اس وقت جب اسی نسخہ سے ان کا علاج کیا گیا تو تین دن میں مرنے کی بجائے تین دن میں صحت کے آثار واپس لوٹ آئے جس کی پہلی علامت یہ ظاہر ہوئی کہ پیاس اور بھوک جو بالکل مٹ چکی تھی از سرنو بحال ہونے لگی۔جگر کے بہت سے دوسرے مریضوں نے بھی اس نسخے سے استفادہ کیا ہے اور ابھی تک بقید حیات ہیں۔) بعض اوقات جگر کی امراض تلی میں منتقل ہو جاتی ہیں خصوصاً مزمن ملیریا میں ایسا ہوتا ہے۔پہلے جگر خراب ہوتا ہے پھر تلی پھول جاتی ہے۔ایسے مریضوں کو کارڈ ووس میر بانس کے علاوہ سیا نوٹس (Ceanothus) در سنیچر میں دینی چاہئے۔سیا نوتھس تلی کی بہترین دوا ہے۔بعض دفعہ ایسے مریضوں کے پیٹ پھول جاتے ہیں، تلی اور جگر کی جگہ پر سوزش اور ان میں تحقیق پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔ایسے مریضوں کا علاج جگر ی مندرجہ بالا ادو ی اور سیا نٹس سے کرتے ہیں۔اللہ کے فضل سے دو تین مہینے کے اندر اندر حیرت انگیز طور پر شفا ہو جاتی ہے یہاں تک کہ پیٹ اپنے پہلے حجم پر واپس لوٹ آتا ہے اور دبانے سے بھی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا۔جن علاقوں میں ملیریا کثرت سے ہوتا ہے وہاں یہ تکلیفیں عام ہوتی ہیں۔وہاں یہی نسخہ استعمال کرنا چاہئے۔ہر حرکت سے درد اور بیمار حصہ کی تکلیف کا بڑھنا برائیو نیا کا خاصہ ہے۔اس کی رسٹاکس سے بھی کچھ مشابہت ہے۔رسٹاکس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آرام کرنے سے درد بڑھتا ہے اور حرکت سے کم ہو جاتا ہے۔یہ بات بعینہ درست نہیں۔رسٹاکس کا مریض جب چلتا ہے تو گوشروع میں اس کا درد بڑھتا ہے اور کچھ چلنے کے بعد آرام محسوس ہوتا ہے مگر اس دوران در دکلیتًا رفع نہیں ہوتا بلکہ کھڑے ہونے پر یا آرام کرنے پر پہلے سے بھی بڑھ کر تکلیف محسوس ہوتی ہے۔برائیو نیا کا مریض دو چار دن مسلسل آرام کرے تو اسے افاقہ ہو جاتا ہے لیکن رسٹاکس کا مریض آرام کرے تو درد اور بڑھتا چلا جائے گا۔