ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 112

آرم میٹ 112 ناکام و نامراد محسوس کرے تو یہ جذباتی اذیت اور عذاب کی کیفیت رفتہ رفتہ مستقل پاگل پن میں تبدیل ہو سکتی ہے ورنہ شروع شروع میں وہ ان تمام کیفیات کے باوجود سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری نہیں ہوتا اور حقائق کا موازنہ کرسکتا ہے۔آرم میٹیلیکم میں جسمانی لحاظ سے سب سے زیادہ جگر متاثر ہوتا ہے اور جگر کی خرابی ہمیشہ دل کی تکلیف کے ساتھ منسلک ہو جاتی ہے۔دل کے عضلات کمزور پڑ جاتے ہیں اور جگر جواب دے جاتا ہے۔ایسے مریض میں یہ دونوں بیماریاں اکٹھی ملتی ہیں۔دل کی اندرونی جھلی میں سوزش کے نتیجہ میں دل میں درد محسوس ہوتا ہے۔دل پھیلنے لگتا ہے اور پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے۔آرم میٹ میں پانی کی دردیں بھی پائی جاتی ہیں۔جوڑوں میں سوزش ہو جاتی ہے۔ہڈیوں کے ارد گرد پائی جانے والی باریک جھلی میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہڈیاں متاثر ہوتی ہیں اور بعض اوقات بھر بھری ہو جاتی ہیں۔کرکری ہڈیوں یعنی لچک دار ہڈیوں میں بھی کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔ہڈیوں کے ریشوں میں سختی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لحاظ سے یہ ارجنٹم نائٹریکم سے مشابہ ہے۔ہڈیوں میں چاقو لگنے کی طرح کا درد ہوتا ہے۔بعض اوقات جوڑوں کو حرکت دینا مشکل ہو جاتا ہے۔جیسے کندھے کا جوڑ ہلتا ہی نہیں۔اسے عموماً Frozen-Shoulder کہتے ہیں۔بسا اوقات چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی جوڑ ہلانا جلانا مشکل ہوتا ہے لیکن اگر بائی کی دردوں کی وجہ سے جوڑ حرکت نہ کرے تو آرم میٹ بہترین دوا ہے۔آرم میٹیلیکم میں خون کی وریدیں موٹی ہونے لگتی ہیں۔ان میں خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں اور خون کی رگوں میں دھڑکن اور تپکن پیدا ہوتی ہے۔خون کے سرخ ذرات جوڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں جس سے جوڑوں کی تکلیفیں پیدا ہو جاتی ہیں۔دل اور جگر کی خرابی کی وجہ سے جسم کے کچھ حصے اور جسم کی ہر جگہ کی غدودیں پھول جاتی ہیں۔عورتوں میں ٹانگوں اور ٹخنوں کے گرد سوجن نمایاں ہوتی ہے کیونکہ حمل کے دوران انہیں بہت بوجھ اٹھانا پڑتا ہے اور کمزوری کا احساس باقی رہ جاتا ہے۔اس لئے ٹانگوں اور