ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 111

آرم میٹ 111 29 آرم مٹیلیکم AURUM METALLICUM آرم مٹیلیکم کا سب سے زیادہ تعلق مریض کے پہنی رجحانات سے ہے۔اس کی اکثر بیماریاں بھی ذہنی تکالیف کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔ذہن پر پڑنے والے بداثرات جسمانی بیماریوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔اس دوا میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایسا مریض اپنی ذات کا اعتماد کھونے لگتا ہے۔ہر وقت اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے۔خود کو بے کار اور نا کارہ وجود سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو زمین پر بوجھ تصور کرتا ہے۔جب ایسے خیالات بڑھ جاتے ہیں تو آخر کار خودکشی کے رجحان پر منتج ہوتے ہیں اور مریض واقعتا خود کشی کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔آرم مٹیلیکم کا مریض بظاہر اپنی ذات میں گم، مایوس اور پڑ مردہ دکھائی دیتا ہے لیکن جب اسے کسی بات پر غصہ دلا دیا جائے تو اس کی اپنی جان لینے کی خواہش دوسروں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے اور وہ قتل تک کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔جب اپنی ذات اور ماحول سے بیگانگی اور دنیا کی بدسلوکی کا احساس دب کر اندرونی دینی ناسور بن جاتا ہے تو دبا ہوا نفرت کا جذبہ اچانک ابھر آتا ہے۔عام طور پر اس بے چینی اور تکلیف کا رخ اس کی اپنی ذات کی طرف ہی رہتا ہے لیکن اگر اسے کوئی بہت تنگ کرے تو اس کا انتقامی جذ بہ بھڑک اٹھتا ہے اور پھر ایسا مریض انتہائی تشدد پر اتر آتا ہے۔اس لئے آرم میڈیاکم کے مریضوں سے چھیڑ خانی کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔اسی طرح بلاوجہ انہیں بحثوں میں الجھانا نہیں چاہئے۔آرم میٹ میں پاگل پن کا رخ جذبات سے ذہن کی طرف ہے۔اگر مریض کی انا کچلی جائے ، زندگی کی ناکامیاں اس پر چھا جائیں اور وہ اپنے آپ کو جذباتی طور