ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 80

80 ارجنٹم نائیٹریکم کوٹ کر کھانے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔کچے کیلے کو سکھا کر پیس کر اس کے سفوف کو دن میں دو تین بار کھلایا جائے تو یہ کچھ عرصہ کے بعد زخموں پر تہہ سی بنا دیتا ہے جو نہ صرف السر کو ڈھانپ لیتی ہے بلکہ اس سفوف میں شفا کا مادہ بھی پایا جاتا ہے۔میں نے ایک سائنسی معلومات کے رسالہ میں پڑھا ہے کہ کچے کیلے کے پاؤڈر پر جو تحقیق کی گئی ہے اس سے قطعی طور پر ثابت ہوا ہے کہ یہ معدے کے السر کا بہترین علاج ہے۔خود میں نے کئی مریضوں کو یہ استعمال کروایا ہے اور ہمیشہ فائدہ ہوا ہے۔ارجنٹم نائیٹریکم کے مریض کو معدے میں پرانے السر ہوں تو جسم میں خون کی کمی ہو جاتی ہے۔ساتھ ہی میٹھا کھانے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔میٹھے کی خواہش اور بھی بہت دواؤں میں پائی جاتی ہے۔بعض لوگ بہت میٹھا کھاتے ہیں لیکن انہیں کچھ نہیں ہوتا جبکہ ارجنٹم نائیٹریکم کے مریض کو میٹھا موافق نہیں آتا۔اس کے کھانے سے معدے کا نظام بگڑ جاتا ہے اور دوسری تکلیفوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اگر میٹھے کی خواہش کے ساتھ پیٹ میں ہوا اور تناؤ بھی ہو تو یہ علامت اگر چہ لوگوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے لیکن ارجنٹم نائیٹریکم کے مریض میں بہت نمایاں ہوتی ہے۔ارجنٹم نائیٹریکم کا مریض دائیں کروٹ نہیں سوسکتا۔یہ علامت ناجا (Naja) میں بھی ملتی ہے۔دائیں کروٹ لیٹنے سے نبض تیز ہو جاتی ہے۔کالمیا،سپونجیا ، کالی نائیٹریٹ، الیومن، پلاٹینا لیم ٹگریم وغیرہ سب میں یہ علامت مشترک ہے۔ان دواؤں کی ایک دوسرے سے تفریق ان کی دوسری امتیازی علامتوں سے کی جاسکتی ہے۔ارجنٹم نائیٹریکم کی تکلیفیں گرم کمرے میں یا آگ کے پاس بیٹھنے سے بڑھ جاتی ہیں۔اس میں چہرے کا پسینہ بہت نمایاں ہوتا ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے جیسے پانی سے اندر سے پھوٹ رہا ہے۔ارجنٹم نائیٹریکم میں چہرہ پر مردہ اور نیلگوں ہو جاتا ہے، آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں اور بے رونق ہوتی ہیں۔تھو جا کی طرح مریض میں مسے بننے کا رجحان بھی ہوتا ہے۔گلے میں بھی آبلے بن جاتے ہیں۔گلے میں ہسپر سلف کی طرح پھانس اٹکنے کا احساس بہت نمایاں ہوتا ہے۔اسے نکالنے کی کوشش میں تکلیف اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ صرف احساس ہوتا ہے، حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا۔نائیٹرک ایسڈ میں بھی یہ علامت ملتی ہے۔