ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 81

ارجنٹم نائیٹریکم 81 صرف گلے میں ہی نہیں بلکہ جسم کے مختلف حصوں میں کوئی چیز چیھنے کا احساس ہوتا ہے جہاں ذرا بھی ہاتھ لگ جائے تو بہت درد ہوتا ہے۔ارجنٹم نائیٹریکم میں دودھ پلانے والی ماؤں کی علامات ان کے بچوں میں ظاہر ہو جاتی ہے اگر ماں بہت زیادہ میٹھا کھائے تو بچے کو اسہال لگ جاتے ہیں۔ارجنٹم نائیٹریکم میں قے اور اسہال بیک وقت شروع ہو جاتے ہیں۔سبزی مائل دست آتے ہیں، بچہ جو کچھ پیتا ہے فوراً نکل جاتا ہے۔ایسے بچے عموماً سوکھے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ضروری نہیں کہ شیر خوار بچوں میں ماں کے دودھ کی وجہ سے سوکھا پن پیدا ہو۔بچے بذات خود بھی ارجم نائیٹریکم کے مریض ہو سکتے ہیں۔ان کے سوکھے پن میں یہ علامت ملتی ہے کہ سبز رنگ کے اسہال ہوتے ہیں۔قے اور اسہال اکٹھے یا باری باری ہوتے رہتے ہیں۔اسہال کے ساتھ آؤں بھی آتی ہے۔ارجنٹم نائیٹریکم میں جسم کے اندرونی اعضاء میں درد ہوتا ہے۔مثلاً جگر یا تلی میں دکھن ہوتی ہے، معدے میں درد ہوتا ہے ، ضروری نہیں کہ دکھن کا یہ احساس سارے پیٹ میں پھیلا ہوا محسوس ہو۔ارجنٹم نائیٹریکم میں پیشاب غیر ارادی طور پر خود بخود نکل جاتا ہے۔بچوں میں رات کو بستر گیلا کرنے کی علامت بھی ملتی ہے۔ایک اور علامت یہ ہے کہ پیشاب کی خواہش ہوتی ہے لیکن پیشاب آسانی سے نہیں آتا۔پیشاب کی نالی میں درد، ورم اور خارش کا رجحان ہوتا ہے۔سوزاک کی بھی یہ بہترین دوا ہے۔ارجنٹم نائیٹریکم حمل کے دوران پیدا ہونے والی اکثر تکالیف میں مفید ہے۔اس کے مریض میں دل کی کمزوری پائی جاتی ہے جس میں حمل کے دوران بوجھ پڑنے سے اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ تکلیف سارے حمل کے زمانہ میں رہتی ہے۔یہ تکلیف جسمانی حرکت اور جذباتی ہونے سے بڑھ جاتی ہے۔ارجنٹم نائیٹریکم میں ڈراؤنی خوا ہیں آتی ہیں۔صبح اٹھنے کے بعد ٹانگوں میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے چوٹیں لگی ہوں۔چلنے سے دکھن ہوتی ہے، پنڈلیوں میں کمزوری کا احساس ہوتا ہے، باز و بے حس ہو جاتے ہیں، کمر