ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 79

ارجنٹم نائیٹریکم 79 طرح نیلاہٹ کا رجحان ہوتا ہے۔کیو پرم میں تشیخ کی وجہ سے جسم نیلا ہو جاتا ہے۔کار بو ایمیلس میں آکسیجن کی کمی اور خون کی خرابی کی وجہ سے نیلا ہٹ ہوتی ہے۔ارجنٹم نائیٹریکم میں نیلا ہٹ کا رجحان کار بو انیمیلس سے مشابہ ہے۔ان دونوں دواؤں کی نیلا ہٹ سارے جسم پر ظاہر ہوتی ہے جیسے کسی کا دم گھٹ جائے تو جسم نیلا ہو جاتا ہے۔کیوپرم میں وقتی تشیخ سے ہاتھ پاؤں بھی مڑ جاتے ہیں اور مریض کا چہرہ اور ہونٹ نیلے ہو جاتے ہیں۔نائیٹریکم میں زخموں کا رجحان بھی ہوتا ہے۔ایلو پیتھک طریقہ علاج میں پہلے آنکھ کی ہر بیماری میں سلورنا ئیٹریٹ کے قطرے استعمال ہوتے تھے۔ہومیو پیتھی میں بھی یہ ہلکے محلول کی نکل میں دی جائے تو آنکھوں کے زخموں کے لئے بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔خصوصاً آنکھ کے کورنیا کے زخم میں ارجنٹم نائیٹریکم مفید دوا ہے۔اس میں روشنی سے بہت زود حسی بھی ملتی ہے۔آنکھوں میں درد اور تھکن کا احساس ہوتا ہے۔مستقل آشوب چشم جس میں پیپ کی طرح کا مواد جاری رہتا ہو اس میں بھی ارجنٹم نائیٹریکم اچھا اثر دکھاتی ہے۔اس میں پیوٹے سوج جاتے ہیں۔پپوٹوں کے اندرونی حصہ میں سوزش اور سرخی کے دائرے بن جاتے ہیں۔یہ بیماری برصغیر پاک و ہند میں گرمیوں کے موسم میں بہت عام ہوتی ہے۔ارجنٹم نائیٹریکم عورتوں کی تکلیفوں میں بھی مفید ہے۔حیض کے آغاز میں معدہ میں درد ہوتا ہے، رحم کی گردن پر زخم بن جاتے ہیں جن سے خون رستا ہے۔حیض ختم ہونے کے ایک دو ہفتہ بعد ہی دوبارہ خون جاری ہو جائے جو مقدار میں کم ہوتو یہ ارجنٹم نائیٹریکم کی خاص علامت ہے۔اس کے علاوہ اگر مزاج ارجنٹم نائیٹریکم سے مشابہ ہو تو یہ رحم کی دوسری تکلیفوں میں بھی مفید ہے۔زخموں سے خون بہنے اور قے کے ساتھ خون آنے کا رجحان ہوتا ہے۔معدے کے ایسے السر جو پرانے ہو چکے ہوں اور جن میں کوئی دوا کام نہ کرے ان میں ارجنٹم نائیٹریکم بھی استعمال کروا کے دیکھنی چاہئے۔اس کے علاوہ السر کے مریضوں کو ملٹھی