ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 74

74 کام آنے والی دوا ہے لیکن یہ ضروری نہیں۔نسبتاً موٹی خواتین کی بیماریوں میں بھی مفید ثابت لیکن بیضروری ہوسکتی ہے۔بعض لوگوں کو نیند آتے وقت یا نیند کے دوران جھٹکے لگتے ہیں۔یہ بہت تکلیف دہ عارضہ ہے۔اس میں گرائینڈ لیا (Grindelia) چوٹی کی دوا ہے۔آرسنک بھی اچھا اثر دکھاتی ہے۔ارجنٹم میٹیلیکم بھی مفید ہے بشرطیکہ اس تکلیف کا تھکاوٹ سے تعلق ہو سخت محنت ومشقت سے تھکے ہوئے بدن کو سونے سے قبل جھٹکے لگیں تو ارجنٹم مٹیلیکم سے خدا تعالیٰ کے فضل سے فوری شفا ہو جاتی ہے۔ویسے اس بیماری میں اکثر گرائینڈ ملی ہی کام آتی ہے۔جس کی ایک ہی خوراک ہفتوں تک اثر دکھاتی ہے، بار بار ضرورت پیش نہیں آتی۔ارجنٹم میٹیلیکم کی تکلیفیں عین بارہ بجے ، جب سورج نصف النہار پر ہو، بڑھ جاتی ہیں، چکر آتے ہیں۔سر کا درد ماتھے اور پیشانی تک محدودر ہتا ہے یا پھر سر کے کسی ایک طرف مقام بنا لیتا ہے جو زیادہ تر دائیں طرف ہوتا ہے۔آہستہ آہستہ بڑھتا ہے لیکن یکدم ختم ہو جاتا ہے۔اس درد کا چہرے کی اعصابی دردوں سے بھی تعلق ہے کیونکہ یہ بنیادی طور پر اعصابی دوا ہے اور سردرد کا بھی اعصاب سے تعلق ہے۔اگر خارش صرف ایک کان تک محدود ہو اور مریض اسے کھجلا کھجلا کر زخمی کر دے اور کان موٹا ہونے لگے تو یہ ارجنٹم مٹیلیکم کی خاص علامت ہے۔دونوں کانوں کا موٹا ہو جانا کوڑھ کی ابتدائی علامت ہوتی ہے۔یہ مرض بہت آہستہ آہستہ بڑھنے والا ہے۔اس علامت کے ظاہر ہوتے ہی ہائیڈ روکوٹائل (Hydrocotyle) دینی چاہئے۔یہ کوڑھ کی روک تھام کے لئے بہترین دوا ہے۔ذیا بیٹیس اور پیشاب میں البو من آنے کی بیماری میں ارجنٹم میٹیلیکم بہترین دوا ہے۔اگر دوسری علامتیں ملتی ہوں تو مکمل شفا ہو جاتی ہے۔گردوں کی اندرونی جھلیوں میں خرابیاں پیدا ہو جا ئیں تو بھی ارجام مٹیلیکم مفید ہے۔ارجنٹم میٹیلیکم میں پیشاب کی دو طرح کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔اگر سیاہی مائل